مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 343
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 323 رہے ہیں، اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پیغام کی طرف بلا رہے ہیں اور ان اضافوں کو رد کر رہے ہیں جو تم نے صدیوں سے اسلام کی تعلیمات کے ساتھ لگا رکھے ہیں تو پھر وہ اسلام کی ان تعلیمات کا احیاء کر رہے ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔سو تم نے قبول نہیں کرنا تو نہ کرو، ہاں اتنا کہنے کا اختیار ہے کہ ہم نہیں مانتے اور اللہ تمہارا سد باب کرے۔لیکن اس کا آپ کے عربی ہونے یا نہ ہونے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ( لقاء مع العرب بتاریخ 16 جنوری 1996ء) ایک پروگرام میں حضور انور نے سورہ جمعہ کی آیات کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخرین میں بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب سوال ہوا کہ دین آپ کے آنے سے کامل ہو چکا ہے پھر یہ آخرین کون ہیں؟ کیا بعد کے زمانہ میں آپ دوبارہ ظہور فرمائیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عرب کا انتخاب نہیں کیا بلکہ آپکی مجلس میں صرف ایک ہی غیر عرب تھا اور آپ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِنْدَ الشَّرَيَا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ هوَلَاء یعنی اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی چلا جائے گا تو ان میں سے ایک شخص اس کو وہاں سے بھی واپس لے آئے گا۔اس مضمون کو تفصیل بیان فرمانے کے بعد حضور نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا: آپ لوگ اور جو بھی عرب اس پروگرام کوسن رہے ہیں یاد رکھیں کہ یہ آیت آپ لوگوں سے سیادت عرب نہیں چھین رہی، کیونکہ اس آیت میں مذکور حجمی ایک عرب وجود یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل مطیع و غلام ہو گا۔آپ کا اثر ورسوخ تو عالمگیر ہے۔جو کچھ بھی آئندہ اس دنیا میں رونما ہونے والا ہے وہ اس عرب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ماتحتی میں رونما ن ہوگا۔اس لئے آپ لوگوں کو اس سلسلہ میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔لیکن یہ بات یا درکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر جب عجمیوں نے یہ اعتراض اٹھایا کہ عربوں سے ہی کیوں؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أَهُمْ يَقْسمُوْنَ رَحْمَةَ رَبِّكَ ؟ کیا تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرنے کا اختیار ان کا ہے؟۔لقاء مع العرب 21 مارچ 1995 ء )