مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 334 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 334

314 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم -2 اسی طرح ابھی کل ہی مجھے ایک ایسے یورپی ملک سے خط ملا ہے جس کے ایک شہر میں عربوں کی خاصی بڑی تعداد آباد ہے۔میں اس شہر میں گیا تو وہاں پر ان عربوں کو بھی دعوت دی گئی تھی۔انہوں نے بہت اپنائیت کا اظہار کیا اور بعد میں بھی ہماری میٹنگز اور اجتماعات میں آنا جانا شروع کر دیا۔لیکن جب میں اگلی دفعہ گیا تو ان میں سے ایک بھی موجود نہ تھا۔مجھے بتایا گیا کہ وہاں پاکستانی اور ترکی مولویوں نے احمدیت کے خلاف نہایت گندے طریق پر پروپیگنڈہ کیا ت ہے جس کا ان عرب احباب پر ایسا اثر ہوا ہے کہ اب وہ ہمارے سلام کا جواب دینے کے بھی روادار نہیں۔میں نے کہا کہ ان میں سے کسی کو لے کر آؤ تا میں اس سے سنوں کہ کیا کہتے ہیں۔چنانچہ ان میں سے ایک شخص آیا اور میں یہ جان کر حیران ہوگیا کہ وہ پہلے احمدی تھا اور اس پروپیگنڈہ کی رو میں بہہ کر دور ہو گیا۔اس نے کہا کہ بتائیں مرزا صاحب کہاں فوت ہوئے کی تھے؟ اور اسی طرح کی گری ہوئی باتوں کا ذکر کیا۔میں سمجھ گیا کہ اس نے کون سی کتاب پڑھی ہے۔جب میں نے اسے سمجھایا تو وہ واپس آگیا۔میں نے اسے کہا کہ جب تم نے یکطرفہ پرو پیگنڈہ سنا تو تمہاری دیانتداری کہاں گئی ؟ تم ہمارے پاس کیوں نہ آئے اور ہمیں وضاحت کا موقعہ کیوں نہ دیا۔بہر حال اس ملاقات کے آخر پر وہ تو بہت مطمئن نظر آرہا تھا۔لیکن وہ دوسروں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا کیونکہ ان میں سے کوئی بھی لوٹ کر نہ آیا۔یہ ہے اس خط کا پس منظر جو مجھے موصول ہوا ہے۔اسکے بعد حضور انور نے اس خط کا ذکر فرمایا جو آپ کو موصول ہوا۔حضور نے فرمایا: اس خط میں مجھے بتایا گیا ہے کہ عربوں نے اب جبکہ از خود ہمارے پروگرام دیکھنے شروع کئے ہیں تو انکی کا یا پلٹ گئی ہے۔اب انہوں نے دوبارہ جماعت سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اب صحیح طور پر سمجھ آئی ہے۔اور لقاء مع العرب نے ان کو نئی زندگی عطا کی ہے۔قبل از میں یہ احمدیت مخالف پر پیگنڈہ کا شکار ہو گئے تھے لیکن اب جب سے خود ایم ٹی اے دیکھنا شروع کیا ہے اور جب سے یہ دیکھا ہے کہ عرب احمدی بیٹھ کر آپ کے الفاظ کی ترجمانی کرتے ہیں تو اس کا ان پر بہت گہرا اثر پڑا ہے۔الحمد للہ یہ بھی خدا کے فضل سے خدا تعالیٰ کی برکات ہیں جو ایم ٹی اے کی صورت میں ہمیں مل رہی ہیں۔(17/جنوری 1996ء)۔ایک عرب ملک میں ایک احمدی ماں کے دو تین بچے تھے جبکہ خاوند غیر احمدی تھا۔