مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 332
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 312 سے پہلے عرب احمدی حجاز سے اور پھر عراق سے تھے۔لیکن پیشگوئی میں صرف ابدال شام کے ذکر سے اس پیشگوئی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔اس وقت بلا دشام سے مراد صرف آج کا شام ہی نہیں تھا بلکہ فلسطین اردن اور لبنان وغیرہ علاقے بھی اس میں شامل تھے۔يَدْعُونَ کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو يُصَلُّونَ کی طرح یہ ہے کہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔اور دوسرا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تجھے بلاتے ہیں جیسے کہ وہ آپ کے منتظر ہوں۔اور حقیقت میں بھی ایسا ہی ہوا۔بلاد شام میں سب سے بڑی جماعت فلسطین میں قائم ہوئی اور اس کے بعد خود شام میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔شام میں احمدیت کا انتشار بہت غیر معمولی ہے۔اگر چہ بعض اوقات انہیں کئی طرح کی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی طرح کے ظلموں سے دو چار ہونا پڑتا ہے پھر بھی وہاں کے لوگ احمدیت قبول کرنے سے نہیں رکتے۔آجکل تو یہی کچھ ہو رہا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ زمانہ آنے والا ہے اور زیادہ دور نہیں ہے جب شام کی گورنمنٹ اور عوام کا احمدیت کے بارہ میں رویہ بہت تیزی سے بدلے گا اور وہ بکثرت احمدیت قبول کریں گے۔سیرین احمدی اخلاص کے لحاظ سے بہت غیر معمولی ہیں، اور جب وہ احمدیت قبول کرتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ان کی محبت کا وہی عالم ہوجاتا ہے جو اس الہام میں مذکور ہے۔( لقاء مع العرب بتاریخ 25 نومبر 1994ء) قبولیت احمدیت سے عربوں کو انکی عظمت رفتہ واپس مل جائے گی عربوں کے احمدیت قبول کرنے اور خدا تعالیٰ کی برکات سے مستفید ہونے کے بارہ میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس ضمن میں مثبت نقطہ یہ ہے کہ انہوں نے قبل ازیں خدا کے ان افضال و برکات اور الہی فتح و نصرت کا مزہ چکھا ہوا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ کچھ بھی نہ تھے مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر نعمت سے نوازا۔اب اگر وہ اسلام کی اس نشاۃ ثانیہ کے دور میں بھی آگے بڑھ کر صف اول میں شامل ہوں گے تو وہ تصور نہیں کر سکتے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کی برکات سے مستفیض ہوں گے۔اور وہ ساری عظمت رفتہ انکو واپس مل جائیگی جو کہ بدقسمتی سے ان سے چھن گئی۔قبل ازیں اسلام کی خاطر محض اپنے چھوٹے موٹے قبائلی مناصب کی قربانیوں کے بدلے