مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 6 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 6

6 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ہیں لیکن خدمت میں اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ اپنے اخلاص کی وجہ سے وہ خادم زیادہ نظر آتے ہیں رئیس کم نظر آتے ہیں۔یہاں چونکہ سردی بہت ہے اور یورپ کی طرح Heating System نہیں ہے۔مجھے سردی کی وجہ سے زیادہ تکلیف ہو گئی ہے۔یہاں کے قابل ڈاکٹر کو بلایا گیا جس کے معائنہ کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ وہ واقعی قابل ہے۔فرانس کا پڑھا ہوا ہے بعض امور جو تجربہ سے بیماری کو بڑھانے والے ہوتے ہیں اس نے ان کو بہت جلدی اخذ کر لیا۔منور احمد نے بتایا کہ جب ڈاکٹر کو فیس دینے لگے تو سید منیر احصنی صاحب نے بڑے زور سے روکا یہ ہمارا خاندان کا ڈاکٹر ہے ہم اس کو سالانہ فیس ادا کرتے ہیں اس کو فیس نہ دیں۔اس سے معلوم ہوا کہ یہاں بھی بڑے خاندان یورپ کی طرح ڈاکٹروں کو ماہانہ یا سالانہ فیس ادا کرتے ہیں اور ہر دفعہ آنے پر الگ فیس نہیں دی جاتی۔اب یہ پروگرام ہے کہ انشاء اللہ سات تاریخ کو ہم بیروت جائیں گے اور آٹھ کو اٹلی روانہ ہوں گے۔چودھری صاحب انشاء اللہ ساتھ ہی ہوں گے ان کی ہمراہی بہت تسلی اور آسائش کا موجب رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔دلوں میں ایسی محبت کا پیدا کرنا محض اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے۔انسان کی طاقت نہیں اس لئے ہم اللہ تعالیٰ کے ہی شاکر ہیں کہ اس نے ہمارے لئے وہ کچھ پیدا کر دیا جو دوسرے انسانوں کو باوجود ہم سے ہزاروں گنا طاقت رکھنے کے حامل نہیں۔ایک دن یہاں بھی شدید دورہ ہوا تھا مگر خدا کے فضل سے کم ہو گیا اب معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ملک میں پہنچ کر جہاں Heating System ہوتا۔بیماری کے ایک حصہ کو کافی فائدہ ہوگا۔جو حملہ یہاں آ کر ہوا وہ زیادہ تر دماغی تھا۔یعنی جسم پر حملہ ہونے کی بجائے دماغ پر لگتا تھا بڑی سخت گھبراہٹ تھی۔اس وقت یہ دل چاہتا تھا کہ اڑ کر اپنے وطن چلا جاؤں مگر مجبوری اور معذوری تھی۔ادھر علاج کا مقام بھی بہت قریب آ گیا تھا اس لئے عقل کہتی تھی اب سفر کی غرض کو پورا کرو شاید اللہ تعالیٰ کی صحت ہی عطا فرمادے اور جسم آئندہ کام کے قابل ہو جائے۔انشاء اللہ ہم اب آٹھ یا نو تاریخ کو تار یا خط کے ذریعہ سوئٹزر لینڈ سے اپنے حالات لکھیں گے۔احباب دعاؤں میں مشغول رہیں کیونکہ علاج کا مرحلہ تو اب قریب آ رہا ہے۔اس سے پہلے تو سفر ہی سفر تھا۔سب احباب جماعت احمدیہ اور عزیزوں اور رشتہ داروں کو السلام علیکم۔مرزا محمود احمد ہے روزنامه «الفضل ربوہ 10 مئی 1955 ء صفحہ 1-2)