مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 5 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 5

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم اکھنی اور ان کے مخلص خاندان کی عقیدت و محبت کا نہایت پیارا نقشہ کھینچا گیا تھا۔مذکورہ مکتوب کے الفاظ یہ تھے۔مشق 55-5-3 عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ 5 آج دمشق آئے تیسرا دن ہے ہوائی جہاز میں تو اس حادثہ کے سوا کہ اس کے کمبل گلو بند کی طرح چھوٹے عرض کے تھے اور کسی طرح بدن کو نہیں ڈھانک سکتے تھے خیریت رہی۔سردی کے مارے ساری رات جاگا اور پھر وہم ہونے لگا کہ شاید مجھے دوبارہ حملہ ہوا ہے۔چودھری ظفر اللہ صاحب ساری رات مجھے کمبلوں سے ڈھانکتے رہے مگر یہ ان کے بس کی بات نہ تھی۔آخر جب میں بہت نڈھال ہو گیا تو میں نے چودھری صاحب کی طرف دیکھا جو ساتھ کی کرسی پر تھے تو ان کا چہرہ مجھے بہت نڈھال نظر آیا اور مجھے یہ وہم ہو گیا کہ چوہدری صاحب بھی بیمار ہو گئے ہیں۔آخر میں نے منور احمد سے کہہ کر نیند کی دوائی منگوائی۔چودھری صاحب نے قہوہ منگوا کر دیا وہ کی گرم گرم پیا۔ایک ایسپرین کی پڑیا کھائی تو پھر جا کر نیند آئی اور ایسی گہری نیند آئی کہ جب چودھری صاحب صبح کی نماز پڑھ چکے تو میں جا گا۔چودھری صاحب نے عذر کیا کہ آپ کی بیماری اور بے چینی کی وجہ سے میں نے آپ کو نماز کیلئے نہیں جگایا۔بہر حال قضائے حاجت کے بعد کرسی پر نماز ادا کی اور پھر ناشتہ کیا۔اتنے میں روشنی ہو چکی تھی۔دُور دُور سے عرب اور شام کی زمینیں نظر آ رہی تھیں۔بہر حال بقیہ سفر نہایت عمدگی سے کٹا اور ہم سات بجے دمشق پہنچ گئے ایروڈ روم پر دمشق کی جماعت کے احباب تشریف لائے ہوئے تھے جو سب بہت اخلاص سے ملے برادرم منیر اکھنی بھی جماعت کے ساتھ تشریف لائے ہوئے تھے۔امیر وڈ روم کے ہال میں جا کر بیٹھ گئے جہاں پاکستان کے منسٹر بھی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ملنے کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔مستورات کے لئے برادرم سید بدرالدین احصنی جو منیر الحصنی کے چھوٹے بھائی ہیں ، کی مستورات تشریف لائی ہوئی تھیں۔وہ مستورات کو گھر لے گئیں پیچھے پیچھے ہم بھی پہنچ گئے۔محبت اور اخلاص کی وجہ سے بدر الدین احصنی نے سارا گھر ہمارے لئے خالی کر دیا ہے اس وقت ہم اس میں ہیں۔جس محبت سے یہ سارا خاندان ہماری خدمت کر رہا ہے اس کی مثال پاکستان میں مشکل سے ملتی ہے۔برادرم سید بدرالدین حصنی شام کے بہت بڑے تاجر