مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 323 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 323

303 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم پہلے دن کی پیشکش قبول کر لیتا کہ ان دونوں مسائل کو ایک دوسرے سے باندھ لو، میں کو یت خالی کرتا ہوں تم اسرائیل سے عربوں کے مقبوضہ علاقے خالی کرالو۔خون کا ایک قطرہ بہے بغیر یہ سارے مسائل حل ہو جانے تھے۔پھر بڑی تیزی سے اسرائیل وہاں یہودی بستیاں تعمیر کر رہا ہے۔جو روپیہ اسرائیل کو اس وقت مغربی طاقتوں کی طرف سے دیا گیا ہے وہ اکثر اردن کے مغربی کنارہ کے علاقہ میں روس کے یہودی مہاجرین کو آباد کرنے کی غرض سے دیا گیا۔اس لئے عقلاً کوئی وجہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ ایسا واقعہ ہو جائے کہ امریکا اس دباؤ میں سنجیدہ ہو اور اسرائیل اس بات کو مان جائے۔ایک خطرہ ہے کہ اس کو ایک طرف رکھ کر شام کو یہ مجبور کیا جائے کہ مصر کی طرح تم بھی باہمی دو طرفہ سمجھوتے کے ذریعہ اسرائیل سے صلح کر لو۔اگر یہ ہوا تو فلسطینیوں کا عربوں میں نگہداشت کرنے والا اور ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والا سوائے عراق اور اردن کے اور کوئی نہیں رہے گا۔عراق کا جو حال ہو چکا ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں، اردن میں پہلے ہی اتنی طاقت نہیں ہے۔بلکہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل اردن سے چھیڑ چھاڑ جاری رکھے کہ چونکہ اردن نے ہمارے خلاف جارحیت کا نمونہ دکھایا ہے یا ہمارے دشمنوں کی حمایت کی ہے، اردن کو بھی اپنے قبضہ میں لے سکے۔اس نقطہ نگاہ سے مشرق وسطی کی تین قوموں ایران عراق اور اردن کا اتحاد انتہائی ضروری ہے۔اور اسکے علاوہ دیگر عرب قوموں سے ان کی مفاہمت بہت ضروری ہے۔تا کہ یہ تین ایک طرف نہ رہیں بلکہ کسی نہ کسی حد تک دیگر عرب قوموں کی حمایت بھی انکو حاصل ہو۔ایک اور مسئلہ جواب اٹھایا جائے گا وہ سعودی عرب کے اور کویت کے تیل سے ان عرب ملکوں کو خیرات دینے کا مسئلہ ہے جو تیل کی دولت سے خالی ہیں۔یہ انتہائی خوفناک خود کشی ہوگی۔اگر ان ملکوں نے اس طریق پر سعودی عرب اور کویت کی امداد کو قبول کر لیا کہ گویا وہ حقدار تو نہیں لیکن خیرات کے طور پر ان کی جھولی میں بھیک ڈالی جارہی ہے۔اس کے نتیجہ میں فلسطین کے مسئلے کے حل ہونے کے جو باقی امکانات رہتے ہیں وہ بھی ہمیشہ کے لئے مٹ جائیں گے۔اس لئے اس مسئلہ پر عربوں کو یہ موقف اختیار کرنا چاہئے کہ عربوں کو خدا تعالیٰ نے جو تیل کی دولت دی ہے وہ سب کی مشترک دولت ہے۔اور ایسا فارمولہ طے کرنا چاہیئے کہ اس مشترک دولت کی حفاظت بھی مشترک طور پر ہو اور اس کی تقسیم بھی منصفانہ ہو۔البتہ جن ملکوں میں