مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 322
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 302 کے دائرے میں میں ایران کو بھی شامل کرتا ہوں کیونکہ تین ایسے مسائل ہیں جو اگر فوری طور پر ی حل نہ کئے گئے تو عربوں کو فلسطین کے مسئلے میں کبھی اتفاق نصیب نہیں ہو سکے گا۔ایران کی عربوں کے ساتھ ایک تاریخی رقابت چلی آرہی ہے جس کے نتیجے میں سعودی عرب اور کویت عراق کی مدد پر مجبور ہو گئے تھے اور باوجود اس کے کہ اندرونی طور پر اختلافات تھے وہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتے کہ ایران ان کے قریب آکر بیٹھ جائے۔دوسرا شیعہ سنی اختلاف کا مسئلہ ہے اور اس مسئلے میں بھی سعودی عرب حد سے زیادہ الرجک ہے۔وہ شیعہ فروغ کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتا۔تیسرا مسئلہ کردوں کا مسئلہ ہے۔جہاں تک دشمن کی حکمت عملی کا تعلق ہے اسرائیل سب سے زیادہ اس بات کا خواہش مند ہے کہ یہ تینوں مسائل بھڑک اٹھیں۔چنانچہ جنگ ابھی دم تو ڑ رہی تھی کہ وہاں عراق کے جنوب میں شیعہ بغاوت کروادی گئی۔اور شیعہ بغاوت کے نتیجے میں ایران عرب رقابت کا مسئلہ خود بخود جاگ جانا تھا۔دشمن کی طرف سے یہ کوشش ابھی تک جاری ہے اور اگر کامیاب ہو گئی تو اس کے نتیجہ میں دشمنوں کو دو اہم مقصد حاصل ہو جائیں گے۔اول : ایران عرب رقابتیں بڑھنی شروع ہوں گی۔اور دوم : شیعہ سنی اختلافات بھڑک اٹھیں گے۔اور یہ دونوں افتراق پھر دوسرے کئی قسم کے جھگڑوں حتیٰ کہ جنگوں پر بھی منتج ہو سکتے ہیں۔کر دوں کو بھی اسی وقت انگیخت کیا گیا ہے۔لیکن نہایت ضروری ہے کہ یہ تمام مسلمان قومیں جن کا ان مسائل سے تعلق ہے فوری طور پر آپس میں سر جوڑیں اور ان مسائل کو مستقل طور پر حل کرلیں ، ورنہ یہ مسائل ایک ایسی تلوار کے طور پر ان کے سروں پر لٹکے رہیں گے جو ایسی تار سے لٹکی ہوئی ہوگی جس کا ایک سرا مغربی طاقتوں کی انگلیوں میں لپٹا ہوا ہے تا کہ وہ جب چاہیں اس کو گرا کر سروں کو زخمی کریں، جب چاہیں اتار کر سر سے لے کر دل تک چیرتے چلے جائیں۔۔۔۔۔۔ایک اور اہم مشورہ ان کے لئے یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اردن کا مغربی کناره خالی کر دے لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ سب قصہ ہے، ایک ڈرامہ کھیلا جارہا ہے۔اگر امریکہ اس بات میں مخلص ہوتا کہ اسرائیل اردن کا مغربی کنارہ خالی کر دے تو صدام حسین کی یہ