مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 317 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 317

297 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم اور تمام دنیا کو ان کی طاقت کی لہریں مغلوب کر لیں گی۔اس وقت دنیا میں مسیح نازل ہوگا اور مسیحی علیہ السلام اپنی جماعت کے ساتھ ان کے مقابلے کی کوشش کرے گا۔تب اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام سے یہ فرمائے گا کہ : لا يدان لأحد لقتالهما كہ ہم نے جو یہ دو قو میں پیدا کی ہیں ان دونوں سے مقابلے کی دنیا میں کسی انسان کو طاقت نہیں بخشی ، تمہیں بھی نہیں بخشی ، ایک ہی علاج ہے کہ تم پہاڑ کی پناہ میں چلے جاؤ اور دعائیں کرو۔دعا ہی وہ طاقت ہے جو ان قوموں پر غالب آئے گی۔اس زمانے کے تمام مسلمانوں میں سے کسی کے متعلق نہیں فرمایا کہ خدا ان کو کہے گا کہ تم دعائیں کرو۔صرف مسیح اور مسیح کی جماعت کے متعلق یہ فرمایا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا اس زمانے میں حقیقت میں دعا پر سے ایمان اٹھ چکا ہوگا۔دعا کو وہ لوگ اہمیت نہیں دیں گے چنانچہ اب آپ دیکھ لیجئے کہ کتنے ہی مسلمان راہنماؤں کے بڑے بڑے بیانات آرہے ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ امریکہ کی طرف دوڑو اور اس سے پناہ کے طالب بنو اور اس سے مدد لو۔اور کوئی ایران سے صلح کر رہا ہے یا اپنی تقویت کی اور باتیں بیان کر رہا ہے۔لیکن کسی ایک نے بھی خدا کی پناہ میں جانے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں جانے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔کسی نے یہ نصیحت نہیں کی کہ اے مسلمانو! یہ دعا کا وقت ہے، دعائیں کرو کیونکہ دعاؤں کے ذریعہ ہی تمہیں دشمن پر غلبہ نصیب ہوگا۔ہاں ایک جماعت ہے اور صرف ایک جماعت ہے جو مسیح محمد مصطفیٰ کی جماعت ہے جس کے متعلق خدا نے یہ مقدر کر رکھا تھا کہ اگر عالم اسلام کو بچایا گیا تو اس جماعت کی دعاؤں سے بچایا جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت میں پناہ لیں، آپ کی تعلیم میں پناہ لیں ، آپ کے کردار میں پناہ لیں، آپ کی سنت میں پناہ لیں، اور پھر دعائیں کریں۔۔۔۔آپ دعائیں کریں اور دعائیں کرتے چلے جائیں۔“ پیشگوئی اور انذار (خطبہ جمعہ فرمودہ 24 /اگست 1990ء) ان کے کیا پروگرام ہیں؟ اور کن طاقتوں پر یہ بھروسہ کئے ہوئے ہیں۔Desert Storm کی باتیں کرتے ہیں یعنی صحراؤں کا ایک طوفان ہے جو دشمن کو ہلاک اور ملیا میٹ کر دے گا۔یہ نہیں جانتے کہ طوفانوں کی باگیں بھی خدا کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔میں نہیں جانتا کہ