مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 4
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 4 بجے ڈاکٹر یوسف الموصلی صاحب معائنہ کے لئے تشریف لائے انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ حضور کو مکمل آرام کی ضرورت ہے اور یہی اصل علاج ہے۔جماعت احمد یہ بیروت پر شفقت شیخ نور احمد صاحب منیر جو ان دنوں بیروت (لبنان) میں مبلغ احمدیت کے فرائض انجام دے رہے تھے ایک روز قبل شرف ملاقات حاصل کر چکے تھے اس روز بھی لبنان کی جماعت کے ایک اور دوست کے ساتھ آئے تا حضور کی خدمت میں اصرار کے ساتھ یہ درخواست کریں کہ حضور بیروت میں بھی تشریف لاویں اور جماعت کو زیارت کا موقع دیں۔حضور نے از راہ شفقت بیروت میں قیام منظور فرمالیا۔6 مئی 1955ء: اس روز حضور نے ظہر و عصر کی نماز کے بعد بعض شامی اور فلسطینی احباب سے مسئلہ فلسطین کے بارہ میں عربی میں گفتگو فرمائی۔نیز مشرق وسطی میں سلسلہ کی ترقی کے بارہ میں بعض سکیموں پر غور کیا اور اصحاب الرائے احباب سے مشورہ فرمایا۔دمشق میں اپنے قیام کے دوران حضور یہاں پر تبلیغ کو وسیع کرنے اور ایک اسکول قائم کرنے کے منصوبے پر غور فرماتے رہے۔ایک روز حضرت مصلح موعود دمشق سے پانچ میل کے فاصلے پر ایک مقام دمر تشریف لے گئے۔وہاں نہر کے کنارے ایک کیفے میں تشریف فرما رہے۔6 رمئی کو حضور کے اعزاز میں دمشق کے احمدی احباب کی طرف سے جماعت کے مرکز زاویۃ الحصنی میں دعوت تھی۔لیکن اس روز بعض احباب کو ایسی خوا ہیں آئیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ حضور کو خطرہ در پیش ہے لیکن انجام بخیر ہے۔ظاہری تدبیر کے طور پر یہ قدم اُٹھایا گیا کہ حضور زاویہ احصنی نہ تشریف لائیں بلکہ احباب کھانے کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔حضور کے ایک مکتوب میں اچھی خاندان کے اخلاص کی تعریف 3 مئی 1955ء کو حضور نے امیر مقامی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے نام ایک مکتوب تحریر فرمایا جس میں سفر دمشق اور آئندہ پروگرام پر روشنی ڈالنے کے علاوہ السید منیر