مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 309
مصالح العرب۔جلد دوم 289 خلیج کا بحران 2 اگست 1990ء کو عراق کے کویت پر حملے سے ارض عرب پر ایک ایسی جنگ کی ابتدا ہوئی جس کا نتیجہ آج یہ ہے کہ استعماری طاقتوں کا اثر ونفوذ ان ممالک میں پہلے سے کہیں بڑھ گیا ؟ ہے، ان ممالک کے قدرتی وسائل اور دولت کو بری طرح لوٹا گیا اور آج تک لوٹا جارہا ہے، عراق اس آگ میں جل کر راکھ ہو گیا ہے اور ہنستے بستے لوگ آج لقمہ عیش اور مسکن و ماوی کی تلاش میں سرگرداں ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ اس پورے عرصہ میں دوران جنگ اور پھر گروہی فسادات میں اسلام کے نام پر ایسے تصرفات روا ر کھے گئے جس کی وجہ سے اسلام کا نام بدنام ہوا اور اس کی تعلیمات کی تصویر نہایت شرمناک صورت میں پیش کی گئی۔اور پھر اس جنگ کے نتیجہ کے طور پر ہی پوری دنیا میں عموماً بعض ایسے تکلیف دہ اور انسانیت سوز واقعات ہوئے جن میں اسلام کو ہی ملزم قرار دیا گیا اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ آج اسلام مخالف جو تحریکات جنم لے رہی ہیں اور جو اسلام کے خلاف نفرت و عداوت کے جذبات پیدا ہور ہے ہیں اور جو نا زیبا اور ناشائستہ کارروائیاں ہو رہی ہیں شاید ان امور کی منظم اور محسوس و مشہود طور پر ابتدا اسی جنگ سے ہی ہوئی۔اس جنگ میں شروع سے لے کر آج تک متعدد عرب اور اسلامی ممالک ایک فریق کی حیثیت سے ایک مسلمان ملک کا ساتھ دیتے ہوئے دوسرے مسلمان ملک اور اس کے معصوم عوام کے خلاف کاروائیوں میں شریک رہے ہیں۔جلسہ جلوس، مظاہرات ،جلاؤ گھیراؤ، جملے بازیاں اور بالآخر خود کش دھماکوں جیسے واقعات روز مرہ کا معمول ہو گیا۔ایسے میں صرف ایک آواز ایسی تھی جو حق کی آواز کہلائی، جس نے انصاف کی بات کی،