مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 310 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 310

290 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم جس کی محبتیں ، ہمدردیاں اور جذبات دعاؤں میں ڈھلتے ہوئے مخلصانہ اور تقویٰ پر مبنی مشوروں اور نصائح میں بدلتی گئیں۔یہ آواز امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی تھی۔آپ نے اس حادثہ کی ابتداء سے ہی یعنی جنگ کی ابتدا کے اگلے روز 3 /اگست 1990 ء سے ہی خطبات جمعہ کے ذریعہ عالم اسلام کی عموماً اور عرب ممالک کی خصوصا را ہنمائی فرمائی۔آپ نے ان خطبات میں اس ہولناک جنگ کے پس پردہ عوامل اور مہلک مضمرات کے علاوہ عالم اسلام پر مرتب ہونے والے اس کے دور رس اثرات کا نہایت گہری نظر سے تجزیہ فرمایا اور صہیونیت اور مغربی طاقتوں کی ان خطرناک سازشوں سے پردہ اٹھایا جو وہ عالم اسلام کے خلاف کر رہے ہیں۔آپ نے امت مسلمہ کو ان مہیب خطرات سے بھی متنبہ فرمایا جو مستقبل میں انہیں پیش آسکتے ہیں نیز دردمند دل کے ساتھ ایسی بیش قیمت نصائح سے نوازا جن پر عمل پیرا ہونے سے دین و دنیا سدھر سکتے تھے۔آپ نے واضح فرمایا کہ دنیا میں پائیدار امن اور بنی نوع انسان کی حقیقی آزادی اور خوشحالی کی ضمانت صرف وہ نظام دے سکتا ہے جس کی بنیاد قرآن کریم کے پیش کردہ نظام عدل پر ہو۔لیکن افسوس کہ ان ملکوں نے اس آواز پر کان نہ دھرے اور آج انہی آفتوں اور مصیبتوں کی زد میں آگئے ہیں جن کے خدشہ کا حضور انور نے اپنے خطبات میں اظہار فرمایا تھا۔اس ساری صورتحال کے بارہ میں مفصل معلومات کے لئے ان خطبات کا مطالعہ بہت ضروری ہے جو خلیج کا بحران اور نظام جہان نو“ کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ہم ذیل میں اس کتاب سے بعض اقتباسات قارئین کرام کی نظر کرتے ہیں جن کے مطالعہ سے قارئین کرام کو حضور انور کے گہرے تجزیات مینی برحق کلمات، اور مخلصانہ مشوروں کی افادیت کا اندازہ ہو سکے گا۔یہ اقتباسات ایک خاص ترتیب اور ذیلی عناوین کے اضافہ کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔ایک فرض کی ادائیگی کسی کے ذہن میں خیال آسکتا ہے کہ حضور انور نے کیوں اتنے خطبات میں اس مضمون کو بیان فرمایا، اور کیوں عالم اسلام کے لئے یہ تمام امور بیان فرمائے۔اسکا جواب حضور انور۔