مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 305 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 305

مصالح العرب۔جلد دوم 285 سہولت سے فائدہ اٹھانے کی پیش کش کی۔اور ہمارے اصرار پر یہ طے پایا کہ ہم بل ادا کر نے کی شرط کے ساتھ انکا فون اور فیکس حسب ضرورت استعمال کر لیا کریں گے۔باوجود اپنی مصروفیت کے انہیں اس بات کا بہت خیال رہتا تھا کہ نہ صرف ہم سیریا میں رہ کر زیادہ سے زیادہ عربی زبان سیکھیں بلکہ اسکا صحیح تلفظ ادا کرنا بھی ہمیں آنا چاہئے۔اس لئے اکثر اوقات مجالس میں باتوں کے دوران احباب کو متنبہ کیا کرتے تھے کہ وہ اچھی فصحی عربی بولیں تا کہ ہم لوگ مستفید ہو سکیں۔اسی طرح جب ہم بولتے تھے تو جہاں تصحیح کی ضرورت ہوتی ہمیں بتا دیا کرتے تھے اور جہاں تلفظ کی غلطی ہوتی تھی وہیں اسکی بھی درستگی فرما دیتے تھے۔بلکہ انہوں نے ہمیں تلفظ درست کرنے کے لئے اس قدر وقت دیا کہ کچھ عرصہ کے لئے روزانہ ہم ان کے سامنے بلند آواز سے کوئی کتاب پڑھتے اور وہ ہر لفظ کو غور سے سن کر اس کا صحیح تلفظ ہمیں بتاتے تھے۔اسی طرح جب بھی انہیں کوئی پڑھا لکھا شخص ملتا جس کے پاس وقت ہوتا تو فصحی عربی کی بول چال کی پریکٹس کے لئے اسے ہمارے پاس بھیج دیتے۔ان میں سے ایک دوست بہت ہی قابل آدمی تھا اور ہم نے اپنے عرصہ قیام میں اس سے بہت فائدہ اٹھایا۔محترم الشواء صاحب کی وفات 14 اکتوبر 2009ء کو ہوئی اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔آمین مكرم محمد اکرم الشوا آپ مکرم محمد الشوا صاحب کے بیٹے تھے تقریباً روزانہ ہی اپنے بچوں کو لے کر ہمارے گھر تشریف لاتے تھے اور بچوں سے کہتے کہ فلاں سوال پوچھ لو۔یوں ہماری بولنے کی پریکٹس ہوتی رہتی تھی۔اکثر اپنی گاڑی پر ہمیں سیر کو بھی لے جاتے تھے۔ان کے برین میں ٹیومر تھا جس کا بیرون ملک سے آپریشن بھی کروا لیا تھا اسکے باوجود ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ یہ چند ماہ کے مہمان ہیں۔انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں لکھا تو حضور نے فرمایا کہ اگر آپریشن نہ کرواتے تو علاج کا زیادہ فائدہ ہو سکتا تھا بہر حال حضور نے انکا ہو میو پیتھی علاج شروع فرمایا جس کی وجہ سے ایک دفعہ جب چیک اپ کے لئے گئے تو ڈاکٹر ز ر پورٹس دیکھ کر