مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 3
3 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم مشتاق احمد صاحب باجوہ اور ایک اور دوست جنہیں طیارہ کی سیڑھی کے دروازے پر جانے کی کی اجازت تھی آگے بڑھے۔حضور تشریف لائے اور شرف مصافحہ بخشا۔پھر حضور اپنے احباب کے اجتماع میں سہارا لئے ہوئے پولیس کے دفتر میں جہاں پاسپورٹ وغیرہ چیک کئے جاتے ہیں تشریف فرما ہو گئے اور استاذ منیر اکھنی پاس ہی کھڑے ہو کر باری باری احباب کا تعارف کرواتے گئے۔حضرت ام امتہ المتین صاحبہ ، حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ، صاحبزادی امتہ الجمیل اور صاحبزادی امتہ المتین کے استقبال کے لئے الحاج بدر الدین احصنی کے خاندان کی مستورات تشریف لائی ہوئی تھیں۔انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور اپنے قابل احترام مہمانوں کو لے کر بلاتا خیر گھر کو روانہ ہو گئیں۔تھوڑی دیر کے بعد جب پاسپورٹ چیک ہو گئے تو حضور بھی اپنے خدام کے ہمراہ الحاج بدالدین صاحب کے مکان کو روانہ ہو گئے اور چند میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اپنے میزبان کے مکان پر پہنچ گئے۔حضور کا قیام بالا خانہ پر ہوا جو نہایت صاف ستھرا آرام دہ تھا اور اپنے آقا کے قدموں تلے آنکھیں بچھانے والے حصنی خاندان کو میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔الحاج بدر الدین صاحب کا ریشمی کپڑے کا کارخانہ ہے۔آپ ہمارے دمشق کے مبلغ انچارج السید منیر احصنی کے چھوٹے بھائی ہیں۔حضور تھوڑی دیر ڈرائینگ روم میں بیٹھے اور پھر اندر آرام فرمانے کے لئے تشریف لے گئے۔حضور قریباً سات روز تک دمشق میں رونق افروز رہے۔دورانِ قیام کے بعض کو ائف بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔30 اپریل 1955ء:۔حضور نماز ظہر کے لئے تشریف لائے اور سفر کی تکان کے باوجود دمشق کے مخلص احمدیوں کے طبعی اشتیاق کے پیش نظر مجلس میں تقریباً دو گھنٹے تشریف فرما ر ہے اور مختلف امور پر اظہار خیال فرماتے رہے۔یکم مئی 1955:۔دو پہر کو کھانے سے قبل دمشق سے تین چار میل کے فاصلہ پر ایک باغ المنشية مع اہل بیت تشریف لے گئے۔صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب۔چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب۔سید منیر احصنی صاحب اور چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کو بھی شرف معیت حاصل ہوا۔اس باغ میں بہنے والی نہر کے کنارے کے ساتھ نشست گاہیں بنی ہوئی تھیں۔حضور کچھ وقت وہاں تشریف فرما ر ہے اور پھر واپس تشریف لائے۔ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور اس کے بعد مخلصین کو مصافحہ کا موقعہ عطا فرمایا۔تقریباً ساڑھے پانچ