مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 296
276 مصالح العرب۔جلد دوم لیرہ ادا کرنی پڑی جبکہ باہر اسی کپ کی زیادہ سے زیادہ قیمت 10 سے 20 سیرین لیرہ کے درمیان تھی۔بہر حال اس کیفے میں ہمیں کوئی ایسی نشست نہ ملی جس میں ادباء گفتگو کر رہے ہوں۔بالآخر اس خیال سے کہ شاید ہفتہ کے کسی ایک دن یہ لوگ یہاں آتے ہوں ہم نے وہاں کام کرنے والے ایک شخص سے بھی پوچھا کہ کیا یہاں پر ادباء اور شعراء آکر بیٹھتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ محض چائے پینے کے انداز سے تو میں معلوم نہیں کر سکتا کہ یہ ادیب ہے اور یہ شاعر۔اس کے اس جملہ میں ہمارے سارے سوالوں کا جواب تھا۔جگ ہنسائی کا معیار ہم نے اپنا طریق بنا لیا تھا کہ جن عرب احباب کے ساتھ بیٹھتے ان سے درخواست کرتے کہ آپس میں بھی فصحی بولیں تا کہ ہم بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ایک دن دمشق کی سب سے بڑی لائبريرى مكتبة الأسد“ کے کیفے میں جامعہ دمشق کے بعض سٹوڈنٹس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی موضوع پر بات چل نکلی اور ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پورے شام میں کوئی ایک بھی خاندان ایسا نہیں ہے جس کے افراد آپس میں فُصحی عربی بولتے ہوں۔اس پر خاکسار نے ان سے کہا کہ آپ جو نئی نسل کے نوجوان ہیں وہ اس سلسلہ میں پہلا قدم کیوں نہیں اٹھاتے اور اپنے اپنے گھروں میں فصحی عربی بولنی شروع کیوں نہیں کرتے ؟ اس پر ان میں سے ایک نے جو جواب دیا وہ مایوس کن تھا۔اس نے کہا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ ہم ایسا کریں اور معاشرے میں ہماری جگ ہنسائی ہو؟ منفرد جمهوری روایات دمشق یونیورسٹی میں ہمارے ابتدائی ایام تھے اور اگر مضمون مشکل ہوتا اور لیکچرار بھی لوکل زبان میں لیکچر دینا شروع کر دیتا تو ہمیں کچھ سمجھ نہ آتی تھی۔اس لئے ہم اکثر کھڑے ہو کر درخواست کر دیتے تھے کہ براہ کرم فصحی بولیں تا کہ ہم بھی کچھ سمجھ سکیں۔اکثر تو ہماری بات مان لیتے تھے۔لیکن ایک لیکچرار نے ہماری اس درخواست پر کہا کہ جو زبان میں بول رہا ہوں اس کو نہ سمجھنے والے صرف آپ ہیں باقی سب کو سمجھ آرہی ہے۔میں ابھی ہال میں موجود طالبعلموں