مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 294
274 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم تعلقات بہت محدود ہو کر رہ گئے تھے، بہت کم احمدی خلیفہ وقت کو خط لکھتے تھے اور جو لکھتے تھے ان کو خلیفہ وقت کی طرف سے مرسلہ جواب پہنچتے نہیں تھے بلکہ ضبط ہو جایا کرتے تھے۔آج خدا تعالیٰ نے اس طرح کی بندشوں کو ختم کر دیا ہے۔آج احمدی جہاں کہیں بھی ہوں، عربی ویب سائیٹ ، عربی چینل اور ای میلز کے ذریعہ خلیفہ وقت اور تمام دنیا کے احمدیوں کے ساتھ رابطہ کر سکتا ہے۔اور یہ ظاہری قدغنیں بے معنی ہوگئی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے دروازے کھول دیئے ہیں۔ایک یادگار رات گو کہ گاہے گاہے احمدی احباب کے ساتھ ملاقاتوں میں مختلف امور کے بارہ میں بات ہوتی رہتی تھی لیکن ایک رات بطور خاص یادگار ہے۔دمشق سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر حوش عرب نامی ایک بستی میں کچھ احمدی رہتے ہیں انہوں نے ہمیں دعوت پر بلایا اور شام کے کھانے کے بعد انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے بارہ میں کچھ بتا ئیں۔ہم باری باری حضور علیہ السلام کی سیرت کے واقعات بیان کرتے رہے، یہ سلسلہ نماز تہجد تک جاری رہا۔ہمارا پڑھائی کا طریق چونکہ ہم چار دوست ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔اکثر اوقات مرکزی لائبریری چلے جاتے تھے جہاں مختلف پڑھے لکھے دوستوں کے ساتھ بات چیت کے علاوہ نئے عربی اخبارات ورسائل اور کتب کا مطالعہ کرنے کا موقع مل جاتا۔گھر میں رہنے کی صورت میں گھر میں موجود اخبارات و کتب کے علاوہ مختلف آرٹیکلز کا ترجمہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے، نیز لقاء مع العرب اور مختلف عربی چینلز پر خبریں باقاعدگی سے دیکھتے تھے۔ہم آپس میں بھی عربی بولنے کی کوشش کرتے تھے نیز گھر میں فجر کے بعد تفسیر کبیر (عربی) کا درس ہوتا اور خطبہ جمعہ بھی عربی زبان میں ہوتا تھا۔