مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 293 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 293

273 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم صورت موجود نہ تھی۔اور اس پابندی پر لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود بڑی عمر کے احمدی تو ابھی تک احمدیت پر قائم تھے لیکن آپس میں میل ملاپ کی کمی اور جماعتی سرگرمیوں اور اجتماعات کے نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ نسل احمدیت سے قدرے دور ہو گئی تھی۔نیز نئی نسل کے اکثر نو جوان پرانے احمدیوں کو جانتے تک نہ تھے۔اس عرصہ میں ان کو نہ تو آپس میں بیٹھنے اور جماعت کے حالات سننے سنانے کا کوئی قابل ذکر موقعہ ملا تھا، نہ آپس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفائے کرام کی سیرت کے ایمان افروز واقعات کے تذکرے ہوئے۔اس لئے ان میں کی احمدیت کا حقیقی رنگ منتقل نہیں ہو سکا تھا۔ایک خوشگوار تبدیلی ہمارے شام میں پہنچنے کے بعد ہمیں مرکز کی یہی ہدایت تھی کہ آپ کے قیام کی غرض عربی زبان کی تعلیم ہے اس کے علاوہ وہاں کے احمدیوں سے میل ملاپ میں بھی ملکی قوانین کو ملحوظ رکھیں۔وہاں کے قوانین و حالات تو اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ کوئی دینی سرگرمیاں منعقد ہوں۔تاہم ملنے ملانے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔لہذا جب جب احمدیوں کو پتہ چلا وہ ہمیں ملنے کیلئے آتے رہے۔دوسری طرف ہم بھی وقتا فوقتا پرانے اور نئے احمدیوں سے ملنے کے لئے آتے جاتے رہتے تھے۔کئی دفعہ ایسے ہوتا کہ ہمارے ہاں کوئی بزرگ احمدی تشریف لائے ہوتے اور کوئی نوجوان احمدی ملنے آجاتا تو ہمیں یہ جان کر حیرانی ہوتی کہ ایک ہی شہر میں رہنے کے باوجود یہ ان کی پہلی ملاقات ہے۔اس لئے ہمیں ہی ان دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروانا پڑتا تھا۔اس کے علاوہ کئی احمدی احباب وقتاً فوقتاً دعوتیں بھی کرتے رہتے تھے، نیز ہم بھی احباب جماعت کی دعوتیں کرتے تو قصدا کچھ نئے اور کچھ پرانے احمدیوں کو بلا لیتے۔اس طرح ان سب کا آپس میں تعارف ہو جاتا تھا۔یوں ملکی قوانین کے اندر رہتے ہوئے جماعتی سرگرمیوں کے بغیر محض ملنے ملانے سے ہی افراد جماعت کے آپس میں تعلقات مضبوط ہو گئے۔کئی نو جوانوں کا ہمارے ہاں آنا جانا ہو گیا۔ہم بھی ان کے ساتھ بولنے سے فائدہ اٹھاتے اور ان کو بھی مختلف موضوعات کے بارہ میں اپنی معلومات کسی قدر بڑھانے کا موقع مل جاتا تھا۔اُس وقت ان امور کی بہت اہمیت تھی، کیونکہ جماعت کی کتابیں میسر نہ تھیں، آپس کے