مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 292
مصالح العرب۔جلد دوم چار مزید مر بیان کی شام روانگی 272 مکرم عبدالمجید عامر صاحب کے قیام شام کے دوران ہی وہاں پر عربی زبان کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے مزید مربیان بھیجنے کی کارروائی ہونا شروع ہوئی اور وہاں کے بعض احمدی احباب کی کوششوں سے ہم چار مربیان ( محمد احمد نعیم صاحب، داؤداحمد عابد صاحب، نوید احمد سعید صاحب اور خاکسار محمد طاہر ندیم ) کو وہاں پر غیر ملکیوں کو عربی سکھانے والے ایک حکومتی انسٹیٹیوٹ میں داخلہ مل گیا جس کی بناء پر ویزے کا حصول بھی نسبتاً آسان ہو گیا اور ہم 30 رستمبر 1994ء کو ربوہ سے شام کے لئے عازم سفر ہوئے اور یکم اکتوبر کی صبح دمشق پہنچ گئے۔مکرم محمد احمد نعیم صاحب نے 1990ء میں، مکرم داؤد احمد عابد صاحب اور نوید احمد سعید صاحب نے 1991ء میں جبکہ خاکسار نے 1992 میں جامعہ سے شاہد کا امتحان پاس کیا۔1992ء میں ہم چاروں کا تخصص ادب عربی اور صرف ونحو میں ہوا تخصص کے ساتھ ساتھ جامعہ میں بعض کلاسوں میں عربی اور صرف ونحو کی تدریس کا سلسلہ بھی جاری رہا تا آنکہ شام جانے کی کارروائی مکمل ہوگئی۔دمشق پہنچ کر حکومتی انسٹیٹیوٹ میں ہمارے داخلہ کی رسمی کارروائی کے بعد کلاسیں شروع ہو گئیں جو ہفتہ میں دوتین دن شام کے وقت مختصر دورانیہ کی کلاسوں کی شکل میں تھیں۔اس انسٹیٹیوٹ میں تقریباً ڈیڑھ سال تک تعلیم حاصل کی، پھر دمشق یو نیورسٹی کے تحت غیر ملکیوں کو عربی سکھانے والے ایک انسٹیٹیوٹ میں تین ماہ کا ایک کورس مکمل کیا۔اس کے بعد کوشش کی تو دمشق یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور پھر یو نیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے لئے چار سال مزید وہاں قیام کیا۔یوں تقریباً چھ سال یعنی 1994 ء سے لے کر 2000ء تک سیریا میں قیام رہا۔اب اس عرصہ کی یادیں، واقعات، اور قابل ذکر امور پیش خدمت ہیں۔جماعتی حالات گو کہ شام کی جماعت بہت پرانی ہے لیکن ایک لمبے عرصہ تک حکومتی پابندیوں کی وجہ سے جماعتی سرگرمیوں کی اجازت نہ ہونے کے سبب افراد جماعت تو موجود تھے مگر جماعت کی کوئی