مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 289 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 289

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 269 کام کی پریکٹس کرنا تھا۔اس لئے میرا طریق یہ تھا کہ روزانہ ایک عربی اخبار خرید تا اور اس کو شروع سے لے کر آخر تک مکمل پڑھنے کی کوشش کرتا تھا۔شروع میں تو جو الفاظ اور استعمالات مشکل لگتے تھے میں ان کو لکھ لیا کرتا تھا اور سکول میں کلاس شروع ہونے سے پہلے یا بعد اپنے استاد سے ٹائم لے کر سمجھانے کی درخواست کرتا۔فیصلہ آپ خود کریں، خدا کی بات ماننی ہے یا علماء کی ! میرے استاد کا نام عرفان المصری تھا اور وہ نہایت قابل اور مخلص انسان تھے جن کی مدد اور راہنمائی سے میں نے بہت فائدہ اٹھایا۔اس استاد کا طریق تھا کہ تدریس کے دوران بعض اوقات مختلف مسائل کے بارہ میں اسلامی رائے کا بھی ذکر کر دیا کرتا تھا، شاید اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ یورپین سٹودنٹس اس کے خلاف ضرور بولیں گے اور اس طرح عربی بولنے کی پریکٹس ہوگی۔ایک دن اس نے ذکر کیا کہ اسلام چار قسم کے آدمیوں کو قتل کرنے کی اجازت دیتا ہے جن میں ایک مرتد بھی ہے۔میں نے عرض کیا کہ آپ کی شخصیت ہمارے لئے بڑی محترم ہے لیکن مجھے آپ کے اس نظریہ سے اختلاف ہے۔انہوں نے کہا: پھر آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا کہ قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفَراً لَّمْ يَكُن اللهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلاً - (النساء: 138) یقیناً وہ لوگ جوایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے، اللہ ایسا نہیں کہ انہیں معاف کر دے اور انہیں راستہ کی ہدایت دے۔اس کے بعد میں نے جماعت کا موقف اور استدلال پیش کیا کہ اگر مرتد کی سزا قتل ہوتی تو پہلی دفعہ کفر اختیار کرنے کے بعد ایمان لانے کی نوبت ہی نہ آتی بلکہ اس کی بجائے تو پھر قتل کا حکم ہونا چاہئے تھا۔پھر متعدد دفعہ ایمان لانے اور ارتداد اختیار کرنے کے باوجود کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ بالآخران کو قتل کر دو بلکہ یہ ذکر ہے کہ اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔میری یہ بات سن کر وہ اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر کچھ دیر تو خاموش رہے پھر بولے کہ آپ