مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 288 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 288

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم سفارتخانوں سے رابطہ کر کے دیکھو کہ آپ کو ویزامل سکتا ہے یا نہیں۔268 لندن میں مختلف عرب سفارتخانوں سے رابطہ کیا تو وہی جواب ملا جو پاکستان میں ملا تھا بلکہ انہوں نے ایک بات کا اضافہ بھی کر دیا کہ ہم زائر کو اس طرح کا ویزہ نہیں دے سکتے بلکہ اسے اپنے ملک میں جا کر ویزہ لینا ہوگا۔حضور انور نے ایک مخلص احمدی عرب دوست کا نام لے کر فرمایا کہ ان سے کہیں کہ اس بارہ میں کوشش کریں۔چنانچہ اس احمدی دوست کی کوششوں سے مجھے شام کا ویزہ مل گیا اور میں اکتوبر 1993ء میں شام پہنچ گیا۔انسٹیٹیوٹ میں داخلہ اور حضور گا پر حکمت ارشاد ابتدائی کچھ دن ہمارے سیرین احمدی بھائی مکرم مسلم الدروبی صاحب کے گھر پر گزار۔بعد ازاں غیر ملکیوں کے لئے عربی سکھانے والے حکومتی انسٹیٹیوٹ میں مجھے داخلہ مل گیا جس کا نام معهد تعليم اللغة العربية لغير الناطقين بھا“ تھا۔داخلہ سے قبل میرا ہلکا سا ٹیسٹ لیا گیا اور زبان کے معیار کے لحاظ سے مجھے اس کی آخری کلاس میں رکھا گیا۔لیکن چند دن کی پڑھائی کے بعد میں نے محسوس کیا کہ یہ انسٹیٹیوٹ بہت ابتدائی قسم کا ہے جس سے شاید مجھے خاطر خواہ فائدہ نہ ہو سکے گا۔لہذا میں نے اپنی یہ رائے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں لکھنے کے ساتھ یہ بھی عرض کی کہ اگر ارشاد ہو تو کسی بہتر سکول میں داخلہ کی کوشش کی جائے۔کچھ دنوں کے بعد حضور انور کا ارشاد موصول ہوا کہ مجھے پتہ ہے آپ کو کتنی عربی آتی ہے۔آپ تو اس انسٹیٹیوٹ کی آخری کلاس میں ہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ آپ اس کی پہلی کلاس میں منتقل ہونے کی کوشش کریں اور بچوں کی طرح پڑھیں۔چنانچہ میں نے ایسے ہی کیا۔اور یہی فیصلہ درست تھا کیونکہ مجھے عربی زبان کے بڑے بڑے لفظ اور جملے اور قدیم عربی ادب کے بارہ میں تو کچھ علم تھا لیکن بنیادی امور سے اس قدر شناسائی نہ تھی۔مختصر دورانیہ کی ان پہلی کلاسوں میں پڑھنے سے یہ بنیادی امور راسخ ہو گئے۔اس انسٹیٹیوٹ میں تقریباً ایک سال تک تعلیم حاصل کی۔چونکہ سکول کی پڑھائی تو بالکل ہلکی پھلکی تھی اور کسی عرب ملک میں قیام سے اصل مقصد وہاں رہ کر کثرت سے زبان بولنے، ذاتی طور پر کثرت مطالعہ کرنے اور ترجمہ وغیرہ کے