مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 287 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 287

مصالح العرب۔جلد دوم 267 اس کے بعد 1989ء میں میرا تبادلہ سیرالیون ہوگیا۔وہاں پر بھی بعض عرب فیملیز موجود تھیں لیکن کئی دہائیوں سے وہاں پر ہی رہنے کی وجہ سے یہ عرب صحی عربی سے بہت دور ہو گئے تھے۔سیرالیون کے دوسرے بڑے شہر کینیا میں ایک لبنانی الاصل احمدی مکرم خلیل احمد سکیکی صاحب رہتے تھے ان کے ساتھ میرا رابطہ رہتا تھا، کیونکہ ان کی عربی کافی اچھی تھی ، وہ اکثر رسالہ التقویٰ“ پڑھتے تھے۔انہوں نے کچھ عربی قصیدے بھی لکھے جن میں سے بعض النقوی میں شائع بھی ہو چکے ہیں۔عربی زبان میں مخصص 1991ء میں جب میں سیرالیون سے واپس پاکستان گیا تو بعض دیگر مربیان کرام کے ساتھ میرا نام بھی عربی زبان میں تخصص کے لئے پیش ہوا۔تخصص کے ساتھ حسب ارشاد جامعہ احمدیہ میں عربی زبان کی تدریس کی ڈیوٹی بھی ادا کرنے کا موقعہ ملا۔عربی زبان کی تعلیم کے لئے شام روانگی میں ابھی پاکستان میں ہی تھا کہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع حمہ اللہ کا ارشاد موصول ہوا کہ پاکستان میں موجود مختلف عرب ممالک کے سفارتخانوں سے رابطہ کر کے جائزہ لوں کہ کسی عرب ملک کا سٹڈی ویزامل سکتا ہے یا نہیں۔مجھے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کا کم از کم میرے لئے کوئی امکان نہیں۔کیونکہ تقریباً سب ممالک کی طرف سے دو بنیادی معیار تھے جن پر میں پورا نہیں اتر تا تھا۔ایک تو تعلیم بی اے ہونی چاہئے تھی جبکہ میں ان کے لحاظ سے محض میٹرک پاس اتا تھا۔تعلیم یاے تھی کہ میں ان حال تھا، دوسرا میری عمران کی مطلوبہ عمر سے زیادہ تھی۔1993ء میں مجھے جلسہ سالانہ برطانیہ میں شمولیت کی توفیق ملی۔اور بعد از جلسہ واپسی سے ایک دن قبل جب حضور انور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو حضور نے دریافت فرمایا کہ آپ کا پروگرام کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور کل میری فلائٹ ہے۔آپ نے فرمایا: کوئی جلدی کی ضرورت نہیں ، یہاں عربک ڈیسک میں بیٹھ کر کام سیکھو اور یہاں سے مختلف عرب ممالک کے