مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 286 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 286

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 266 شہ پارہ بن گئی۔شاید انہیں غم و دکھ کو نہایت مؤثر طریق پر بیان کرنے کی ماورائی قوت عطا ہوئی تھی۔ان کی کتاب ” العبرات مختلف کہانیوں کا مجموعہ ہے۔اس کا مطلب ہے ” آنسو، اور یہ حقیقت ہے کہ ان کہانیوں کو پڑھ کر آنسو نکل آتے ہیں۔ندیم } جامعہ کا مقالہ عربی زبان سے مذکورہ شغف کی بناء پر ہی میں نے جامعہ کے آخری سال میں مقالہ کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”شہادۃ القرآن" کا عربی ترجمہ کیا تھا۔اور شاید جامعہ احمدیہ میں مقالہ کے طور پر کسی کتاب کے عربی ترجمہ ہونے کا یہ پہلا موقع تھا۔میرے اس مقالہ کے نگران مکرم ملک مبارک احمد صاحب ( مرحوم ) تھے، جو کہ عربی زبان کے علم میں ایک سند کی حیثیت رکھتے تھے۔ظاہر ہے مجھے تو عربی زبان کا سطحی ساعلم تھا لیکن ملک صاحب نے اس ترجمہ میں میری بہت مدد کی اور ہر قدم پر راہنمائی فرمائی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔آمین۔بیرون ممالک خدمت کی توفیق اور عربوں سے رابطہ جامعہ پاس کرنے کے بعد کچھ عرصہ پاکستان میں مختلف جماعتوں میں خدمت کی توفیق پائی، پھر 1986ء میں پہلی دفعہ سویڈش زبان سیکھنے کے لئے مجھے سویڈن بھجوادیا گیا۔جہاں میں نے شروع شروع میں سکول میں داخلہ لے کر زبان سیکھی لیکن بعد میں امیر ومشنری انچارج کی ذمہ داری کی وجہ سے اس طریق پر زبان سیکھنے کا سلسلہ نہ چل سکا۔ان دنوں سویڈن میں ایک مصری احمدی مصطفی کامل جامع صاحب رہا کرتے تھے جن سے اکثر رابطہ رہتا تھا۔ان دنوں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے خطبات کی کیسٹس مختلف ممالک میں ارسال کی جاتی تھیں، اور عربی ترجمہ میسر نہ ہونے کی وجہ سے مصطفی کامل صاحب انگریزی ترجمہ سنا کرتے تھے ، اور کئی دفعہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ حضور کا خطبہ سنتے جاتے اور روتے جاتے تھے۔اکثر کہا کرتے تھے کہ حضور انور کا اگلا خطبہ آنے تک میں پہلے خطبہ کو متعدد بار سنتا ہوں۔خدا کے فضل سے وہ آج بھی زندہ ہیں اور اخلاص کے اسی اعلیٰ معیار پر قائم