مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 277 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 277

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 259 میرادل ایمان پر مضبوط کر دے تا کہ میں بھی اس روحانی فوج کا سپاہی بن جاؤں۔اللہ کے دین کی اشاعت کے لئے پوری جدو جہد کروں اور اللہ تعالیٰ سے غافل لوگوں کو ہوشیار کروں۔انشاء اللہ حضرت مسیح پاک نے کیا ہی سچ فرمایا ہے کہ : صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف کردگار بہت بڑے عالم اور شاعر کا قبول احمدیت مڈغاسکر میں ایک شامی دوست مکرم ڈاکٹر رحمون صاحب چند سال قبل احمدی ہوئے ہیں۔وہاں پر ہمارے مبلغ مکرم صدیق احمد منور صاحب کے خط کے مطابق التقوی ہی ڈاکٹر صاحب کی ہدایت کا موجب بنا۔آپ بہت بڑے عالم، زبر دست مصنف اور بلند پایہ شاعر ہیں۔انہوں نے احمدیت قبول کرنے کے فوراً بعد قطر کے بعض مولویوں کی طرف سے شائع ہونے والے اعتراضات کا جواب لکھا ہے جو کتابی شکل میں چھپنے کے لئے تیار کیا جارہا ہے۔ان کا انداز استدلال نہایت انوکھا اور مؤثر ہے۔ان کا اخلاص مجھے مجبور کر رہا ہے کہ ان کے ایسے ہی ایک انوکھے جواب کو احباب کے فائدہ کے لئے یہاں درج کروں۔وو مسجد مبارک قادیان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام درج ہے مَنْ دَخَلَهُ كَانَ امنا ایک معترض نے کہا کہ یہ تو قرآنی آیت ہے جو خانہ کعبہ کے بارہ میں ہے۔مرزا صاحب نے اسے اپنی مسجد پر چسپاں کر دیا ہے؟ اس اعتراض کے رد میں ڈاکٹر رحمون صاحب نے دیگر جوابات کے علاوہ لکھا کہ یہ اعتراض کرنے والے عرب، قاہرہ ائیر پورٹ پر اترتے ہیں تو اپنے سامنے بڑے موٹے الفاظ میں یہ آیت قرآنی لکھی ہوئی پاتے ہیں: اُدْخُلُوا مِصْرَانٌ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَـاب ہر چھوٹے بڑے کو پتہ ہے کہ قاہرہ خدا کے گھروں میں سے کوئی گھر نہیں ہے۔بے شک اس شہر میں سینکڑوں مسجدیں ہیں مگر اس کے اندر دنیا بھر کے خصوصاً یورپ اور امریکہ کے سیاحوں کی خاطر تواضع کے لئے جوئے شراب اور ہر قسم کی عیاشی کے ہزار ہا اڈے بھی قائم ہیں۔پھر