مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 274
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 256 حضور انور کا پر معارف جواب اس بزرگ کا یہ دلچسپ خط حضور انور کی خدمت میں برائے ملاحظہ پیش کیا گیا۔آپ نے جو جواب عطا فرمایا اس کے بعض اقتباسات قارئین کی دلچسپی اور معلومات کے لئے پیش ہیں۔فرمایا کہ ان صاحب کو لکھیں کہ : ' آپ کا بہت دلچسپ خط ملا ہے۔آپ نے آخر پر جو بات کہی ہے اس سے پہلے میں مسکرا ہی رہا تھا۔خط پڑھ کر غصہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہمیں تو اللہ تعالی نے یہی تعلیم دی ہے کہ کوئی گالیاں بھی دے تو اس کے لئے دعا کرو اور یہ سب کچھ ہنس کر برداشت کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کا شعر ہے: گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار لیکن آپ کے خط میں تو گالیاں نہیں بلکہ بہت ہی اچھا مضمون تھا اور نہایت صاف گوئی سے آپ نے کام لیا ہے۔قولِ سدید سے بات کی ہے۔اس خط پر ناراض ہونا تو بڑی حماقت ہوگی۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کے دعوی مہدویت کا تعلق ہے اسکے ثبوت کے لئے عام دنیا کے انسانوں کے لئے تو اور بہت سے دلائل بھی پیش کئے جاسکتے ہیں لیکن آپ کو چونکہ قرآنِ کریم سے محبت ہے اور آپ اس کا باریک نظر سے مطالعہ کرتے ہیں اس لئے آپ کی کے لئے سب سے اچھی دلیل یہی ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی تفاسیر کا مطالعہ کر کے دیکھیں اور پھر اپنے دل کی گواہی لیں کہ کیا یہ شخص اللہ کے نور سے دیکھ رہا ہے یا دوسرے لوگوں کی طرح انسانی نظر سے اور کیا لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُون میں ان کا مُطَهَّرُونَ کا مقام ہے یا نہیں؟ آپ نے جو نکات بیان فرمائے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فراست عطا فرمائی ہے لیکن مزید رہنمائی کے لئے یہ آسمانی نور کی محتاج ہے۔آپ کے نکات احمدی تعلیم کے قریب تر ہیں لیکن تھوڑی سی اور روشنی پڑ جائے تو نور علی نور ہو جا ئیں۔۔۔حیات ،موت، حیات کا جو تصور آپ نے پیش کیا ہے یہی درست تصور ہے لیکن قبر کا جو