مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 264
246 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم نے اسے اپنی مسجد کی لائبریری میں رکھا ہے۔میں بڑی ہی خوشی کے ساتھ آپ کو بتاتی ہوں کہ آپ جس طرح اسلام کے محاسن پیش کر رہے ہیں میں اس کی دن بدن قائل ہوتی جا رہی ہوں۔گویا میں بھی آپ میں سے ایک ہوں۔مجھے تو اسی گھر کی تلاش تھی۔لکھتے ہیں: سری لنکا سے ایک عالم دین مکرم بی صاحب کس مؤمنانہ انکساری اور تواضع سے میں نے ہندوستان سے مولوی فاضل کیا ہے۔مجھے احمدیت کا قبل از میں کچھ زیادہ علم نہ تھا۔اب مجھے پتہ چلا ہے کہ میں تو اس گدھے کی طرح تھا جس پر کتابیں لدی ہوں۔الحمد للہ کہ اس نے مجھے بچا لیا اور میرا دل کھول دیا تا کہ حق اس میں داخل ہو۔اور یہ اس طرح ہوا کہ کولمبو میں ” بیت الحمد کے امام صاحب نے ” التقوی رسالے کے بعض شمارے ارسال کئے۔جزاھم اللہ احسن الجزاء۔تیونس سے محمد شریف صاحب لکھتے ہیں۔مجھے ” التقوی بڑھنے کا اتفاق ہوا۔اس میں تو ایسے اسلامی اور تحقیقی مضامین ہیں جو رواداری کی تعلیم دیتے ہیں۔امت مسلمہ کو اس وقت ایسے ہی رسالوں کی شدید ضرورت ہے۔اس کے جوبلی نمبر نے تو مجھے حیران کر دیا۔تعجب ہے کہ ایسی جماعت سے اب تک ہم کیسے بے خبر رہے ؟ ! ہمارے علماء نے تو آپ کی جماعت کے بارہ میں ہمیں اندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔براہ کرم ایسی نیک جماعت کے بارہ میں مزید معلومات والا لٹریچر دیں۔اس جماعت نے تو واقعی اپنے تن من دھن اور اپنے علماء کو دنیا بھر میں اسلامی اقدار پھیلانے کے لئے وقف کر ڈالا سڈنی آسٹریلیا سے ایک عرب دوست حسین حمید صاحب نے لکھا: مجلہ "التقوی میں ” موازنہ تفسیر القرآن“ کے موضوع کے تحت آپ نے نہایت مفید سلسلہ مضامین شروع کیا ہے۔براہ کرم اسے مکمل کئے بغیر نہ چھوڑیں تا کہ لوگوں کو قرآن کی صحیح اور اس کے شایان شان تفسیر پتہ لگے۔انہیں قرآن کے عظیم دلائل کی خبر ہو۔مسلمانوں کی اکثریت قرآن کے معقول اور صحیح مفاہیم سے بے خبر ہے۔یہ لوگ قرآن کو عقل سے دور سمجھتے ہیں۔قرآن کے اکثر تراجم و تفاسیر میں خرافات اور اسرائیلیات شامل کر دی گئی ہیں اور افسوس ہے کہ اکثر مسلمان انہی نامعقول تفاسیر سے چھٹے بیٹھے ہیں۔