مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 262 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 262

244 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم شروع میں یہ رسالہ دنیا بھر کے بڑے بڑے علماء، مفتیان، فقہاء، مذہبی مفکرین، عرب حکمرانوں، بڑی بڑی لائبریریوں، یونیورسٹیوں اور تنظیموں کو بھجوایا جاتا رہا۔لیکن کچھ عرصہ تک اکثر عرب ممالک کی طرف سے اس کی وصولی کی خبر نہ آئی۔تحقیق کروائی گئی تو پتہ چلا کہ یہ رسالہ اکثر عرب ملکوں میں پہنچتے ہی ضبط کر لیا جاتا ہے۔اس پر حضور انور نے ارشاد فرمایا کہ ایسے عرب ممالک میں رسالہ نہ بھیجیں۔اس کی بجائے غیر عرب ممالک میں خصوصاً یورپ اور افریقہ وغیرہ میں رہنے والے عربوں اور عربی دان طبقہ کی طرف زیادہ توجہ دیں اور دلچسپی لینے والے نادار قارئین کو بے شک مفت دیں۔چنانچہ اس ارشاد پر عمل کیا گیا اور اس کے نہایت بابرکت پھل ملے۔ان امور کی قدرے تفصیل قارئین ہی کے خطوط اور بیانات کی روشنی میں پیش ہے۔اہل صحافت کے تبصرے ناروے میں مقیم ایک غیر از جماعت عرب صحافی ڈاکٹر احمد ابومطر لکھتے ہیں: اگست 1995 ء کے شمارہ میں نصوص اسلامیہ مقدسہ کے زیر عنوان مضمون پر میں آپ لوگوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔واقعی آپ نے صحیح اسلامی موقف پیش کیا ہے۔آج بہت سے لوگ دین کے نام پر کئی قسم کی ہلاکت خیز حرکتیں کر رہے ہیں خصوصاً جو آزادی فکر و اجتہاد پر پابندی لگاتے ہیں۔یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا سب سے بہترین عطیہ عقل انسانی ہے۔لبنان کے ایک صحافی محمود رمضان صاحب لکھتے ہیں: میں لبنانی ہوں اور جنیوا ( سوئٹزر لینڈ ) میں مقیم ہوں۔مجھے دینی مسائل کے بارہ میں بہت دلچسپی ہے مگر مجھے اسلامی لڑ پچر میں بہت سے رخنے اور تضادات نظر آتے ہیں۔ان تضادات کو سلجھانے کے لئے میں نے بہت مطالعہ اور سوچ بچار کی مگر ناکام رہا۔خوش قسمتی سے ایک پاکستانی احمدی نوجوان سے ملاقات ہوئی اور اس سے گفتگو کے ذریعے مجھے احساس ہوا کہ اس شخص کے پاس قرآن کریم کی مشکل آیات کی ایسی تفسیر ہے جو نہایت معقول ہے۔اس تفسیر سے قرآنی آیات میں بظاہر نظر آنے والا تقضاد رفع ہو جاتا ہے اور کسی ایسی نامعقول تاویل کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی جو بعض علماء کرتے ہیں۔خصوصاً وفات مسیح کے بارہ میں احمدیت کا