مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 255 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 255

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 237 نیز رفع عیسی کا اعتقاد رکھنے والے اپنے اس عقیدہ میں اور خدا تعالیٰ کے فرمان: "وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ( انبياء: 35 ) میں کس طرح تو فیق پیدا کر سکتے ہیں۔خدائی تعلیم اور وضعی عقائد کا فرق وفات مسیح ناصری علیہ السلام کے بارہ میں ڈاکٹر شلمی صاحب کی مفصل تحقیق درج کرنے کے بعد ہم قارئین کرام کو بتاتے چلتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ تعلیم اور عقائد ایسے ہوتے ہیں کہ ہر قسم کی طبائع اپنی استعداد کے مطابق اس کو سمجھ کر اپنا سکتی ہیں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔کیونکہ خدا تعالیٰ خالق کا ئنات ہے وہ ایسی تعلیم نازل فرماتا ہے جو فطرت صحیحہ کے مطابق ہوتی ہے اور نیک فطرتیں اسے قبول کرنے میں کسی طرح کی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوتیں۔اس کے برعکس انسان کے خود ساختہ عقائد کو چونکہ انسانی فطرت سے مکمل مناسبت نہیں ہوتی اس لئے ایسے عقائد ہمیشہ ہی محل نظر رہتے ہیں اور ہر طبقہ ان میں اپنی سہولت اور فہم کے اعتبار سے تبدیلی کر لیتا ہے۔یہی حال حیات مسیح کے عقیدہ کے ساتھ ہوا۔حیات مسیح کے قائلین کی پہلی غلطی قرآن کریم میں عیسی علیہ السلام کے لئے رفع کا لفظ انہی معنوں میں آیا ہے جن معنوں میں دیگر تمام انبیاء کا رفع مانا جاتا ہے۔اور امت محمدیہ میں آنے والے مسیح محمدی کو عیسی بن مریم سے مشابہت کی وجہ سے احادیث نبویہ میں عیسی بن مریم کا ہی نام دیا گیا۔نیز غلبہ اسلام کی عظیم مہم سر کرنے کی بنا پر آپ کی عزت و تکریم کے لئے نزول کے الفاظ استعمال ہوئے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نافع الناس اور عظیم فیض رساں ہونے کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارہ میں نزول کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔فرمایا: (قَدْ أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُوْلاً - و الطلاق: 11-12) یعنی ہم نے تمہاری طرف ایک ایسا رسول بھیجا جو مجسم ذکر ہے۔کوئی بھی اس کی آیت سے یہ معنی نہیں سمجھتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلے آسمان پر بجسم عصری موجود تھے پھر آپ کا ظاہری نزول ہوا۔بلکہ آپ کی عزت و تکریم و بلند مرتبہ کا بیان ہی سمجھ میں آتا ہے۔یہ درست ہے کہ قرآن کریم میں عیسیٰ علیہ السلام کے لئے رفع کے الفاظ آئے ہیں، لیکن