مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 254 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 254

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 236 خیال میں "متوفیک کے لفظ میں عیسی علیہ السلام کی صلیبی موت اور قتل سے نجات کا وعدہ دیا گیا ہے جس طرح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا تھا کہ وہ آپ کو لوگوں کے قتل کرنے ) سے محفوظ رکھے گا۔خلاصه تحقیق سابقہ تحقیق کے خلاصہ کے طور پر ڈاکٹر شلمی صاحب لکھتے ہیں: کچھ سال قبل اس مسئلہ کو خوب اٹھایا گیا تھا جب شیخ مصطفی المراقی اور شیخ محمود شلتوت نے اس بارہ میں ایک فتوی دیا جس کے بعد میڈیا میں ایک شور برپا ہو گیا جیسا کہ ہرنئی چیز کے بارہ میں لوگوں کا طریق ہے کہ شروع شروع میں شور مچا دیتے ہیں۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہی موقف غالب ہوتا گیا اور اب یہ عقیدہ عام ہو گیا ہے جسے پڑھے لکھوں کی ایک اچھی خاصی اکثریت نے اپنا لیا۔اور راقم الحروف ( ڈاکٹر شلمی ) نے کتنی ہی دفعہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی یعنی جامعہ الازہر اور دیگر یونیورسٹیوں کے ایوانوں میں اس عقیدہ کا پر چار کیا جسے لوگوں نے بڑے احسن طریق پر قبول کیا۔اس لئے میں اس رائے کے مخالفوں سے کہتا ہوں کہ وہ نئی آراء کے قبول کرنے میں کسی قدر نرمی کا مظاہرہ کریں اور ٹھندے دل سے انکے بارہ میں تحقیق ضرور کر لیں۔اللہ ہم سب کو سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دے۔اس بحث کا اختتام میں اس نتیجہ پر کرتا ہوں کہ عیسی علیہ السلام کے جسم و روح کے ساتھ رفع کا عقیدہ اس عیسائی طرز فکر سے متاثر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عیسی علیہ السلام دراصل خدا کا بیٹا ہیں جو آسمان سے نازل ہوئے ہیں پھر دوبارہ اپنے باپ یعنی خدا باپ کے پہلو میں جا کر بیٹھنے کیلئے واپس آسمان پر چلے گئے۔جبکہ مسلمان اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا صرف ایک ہے، وہ ہر جگہ موجود ہے اور اس کا کوئی مادی جسم نہیں ہے ہے۔پھر رفع عیسی کے قائلین اس بات میں اور رفع عیسی اور خدا کے پہلو میں جابیٹھنے میں کس طرح مطابقت پیدا کر سکتے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے۔لہذا اگر عیسی علیہ السلام زمین پر ہی رہیں تو بھی اللہ کے ساتھ ہی رہیں گے۔