مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 253 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 253

مصالح العرب۔جلد دوم شیخ صلاح ابواسماعیل کی دلیل 235 شیخ صلاح ابو اسماعیل (1927-1990) مفکر اور مبلغ اسلام، فصاحت و بلاغت اور خطابت میں اپنی مثال آپ تھے۔متعدد کتب کے مصنف اور ہر دلعزیز شخصیت تھے۔متعدد ٹی وی تو چینلز پر بیسیوں پروگرام کرنے کا بھی آپ کو موقع ملا۔آپ کی رائے درج کرتے ہوئے شلمی صاحب کہتے ہیں:) جناب صلاح ابو اسماعیل صاحب رفع کے بارہ میں بعض بنیادی نکات اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں: خدا تعالیٰ کا تو حسی اعتبار سے کوئی ایسا معین مقام نہیں ہے جس کی بناء پر کہا جاسکے کہ عیسی علیہ السلام کا فلاں مقام کی طرف رفع ہوا ہے۔اس وجہ سے رفع کی تفسیر یہی ہوگی کہ یہ آپ کی قدر و منزلت اور مقام کا رفع ہے۔پھر جسمانی رفع کو یہ بھی لازم آتا ہے کہ یہ جسم آج بھی معین مقام پر دیکھا جا سکتا ہو اور دیگر اجسام کی طرح کھانے پینے جیسے دیگر لوازم کا بھی محتاج ہو، جبکہ رفع عیسی کے ساتھ ان امور کا بھی موجود ہونا مسلم نہیں ہے۔جو کوئی یہ کہتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ عیسی علیہ السلام کے جسم کے خواص کو ظاہر ہونے سے اس طرح روک دے کہ نہ ان کا جسم نظر آئے نہ انہیں کھانے پینے کی حاجت ہو اور نہ ہی ان پر بڑھاپا آئے تو ایسے شخص کو میرا جواب یہ ہے کہ پھر یہ تو روحانی زندگی یا اس سے قریب قریب کی حالت کا نام ہے جو کہ اس رائے کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے جو عیسی علیہ السلام کے جسمانی رفع کی مخالف ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام جسم وروح کے ساتھ اٹھا لئے گئے ہیں۔لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ کہاں لے جائے گئے ہیں اور ان کے جسم کے خواص کا کیا بنا؟ تو کہتے ہیں کہ اس بارہ میں ہم کچھ نہیں کہتے۔ہمارے نزدیک یہ تو کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے۔ہم دوبارہ صلاح ابو اسماعیل صاحب کی طرف لوٹتے ہیں جو یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ : اگر عیسی علیہ السلام کا جسمانی طور پر رفع ایک معجزہ تھا تو اس معجزے کا کیا فائدہ ہوا جو سیح علیہ السلام کے مخالفوں اور آپ کی رسالت کے منکروں کے لئے غیر واضح طور پر ظہور پذیر ہوا ؟ میرے