مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 249 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 249

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 231 شیخ محمود شلتوت صاحب کہتے ہیں کہ توفی کا لفظ قرآن کریم میں بکثرت موت کی کے معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے حتی کہ اس لفظ کا یہی ایک غالب اور ظاہر معنی ہو گیا۔اور اس کی معنے کے علاوہ یہ لفظ جب بھی کسی اور معنی میں استعمال ہوا ہے تو اسکے ساتھ کوئی نہ کوئی قرینہ ایسا کی ضرور ہوتا ہے جو اسکو اسکے ظاہری معنوں سے پھیر دیتا ہے۔پھر آپ نے متعدد آیات درج کیں جن میں یہ لفظ حقیقی موت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔آپ کا خیال ہے کہ جو مفسرین آیت كريم مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ ، میں وفات بمعنی نیند مراد لیتے ہیں اور اس میں تقدیم و تاخیر کی بحث اٹھاتے ہیں یہ مفسرین آیت کریمہ بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْه “ اور احادیث نزول عیسیٰ سے متاثر ہونے کی وجہ سے سیاق آیت (مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ) کے ایسے معنے کرتے ہیں جن کا وہ متحمل نہیں۔ان کو جواب دیتے ہوئے شلتوت صاحب کہتے ہیں کہ اس قسم کی سوچ کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ رفع سے مراد یہاں پر مقام ومرتبہ کا رفع ہے اور احادیث مذکورہ میں بھی ( اگر چہ نزول کا ذکر ہے لیکن ) رفع عیسی کا کہیں ذکر نہیں ہے۔اور شیخ محمد رشید رضا صاحب نے اس ساری تحقیق میں ایک نئے نقطے کا اضافہ کیا اور وہ یہ کہ جسم و روح کے ساتھ عیسی علیہ السلام کے رفع کا تصور دراصل عیسائیوں کا عقیدہ ہے جسے مختلف حیلوں بہانوں سے وہ اسلامی افکار کے ساتھ خلط ملط کرنے کیلئے وہ ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں۔جیسا کہ وہ اسلامی روایات میں اسرائیلیات اور بے سروپا قصے کہانیاں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ہم ذیل میں اس عظیم محقق کے الفاظ نقل کرتے ہیں: قرآن کریم میں عیسی علیہ السلام کے جسم و روح کے ساتھ رفع کے بارہ میں کوئی صریح نص موجود نہیں ہے، نہ ہی آپ کے آسمان سے جسمانی نزول کی بابت کوئی صریح آیت پائی جاتی ہے، بلکہ یہ اکثر عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو اسلام کی ابتداء سے ہی اپنے غلط عقائد کو اسلامی افکار وعقائد میں شامل کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔آپ مزید فرماتے ہیں کہ جب بھی اللہ تعالیٰ دنیا کی اصلاح کا ارادہ کرے گا تو اس کے لئے نہایت آسان ہے کہ وہ یہ اصلاح کسی بھی مصلح کے ذریعہ کر دے۔اس سلسلہ میں اسے عیسی علیہ السلام یا کسی اور نبی کے نزول کی قطعا ضرورت نہیں ہے۔( گویا ان کے نزدیک پرانے کسی نبی کی ضرورت نہیں ہے اسی امت سے کسی کو اللہ تعالیٰ اس اہم کام کے لئے چن سکتا۔ہے۔