مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 248
230 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ذیل میں ہم ان آیات کریمہ کی بعض تفاسیر اور گزشتہ بڑے علماء کی آراء نقل کرتے ہیں۔امام رازی پہلی آیت کی تفسیر کے بارہ میں فرماتے ہیں: إِنِّي مُتَوَفِّيكَ یعنی میں تیری مقررہ میعاد حیات ختم کرنے والا ہوں اور رافِعُكَ یعنی تیرا مرتبہ بلند کرنے والا ہوں اور تیری روح کو اپنے حضور رفعت دینے والا ہوں۔اور مُطَهِّرُكَ یعنی تجھے دشمنوں کے چنگل سے نکالنے والا ہوں اور تیرے اور انکے درمیان فرق کر کے دکھانے والا ہوں۔جیسے اپنے طرف رفع کے الفاظ استعمال کر کے آپ کی عظمت شان کا اظہار فرمایا ویسے ہی تطهیر کے لفظ سے دشمنوں کی سازش سے بچنے کی نوید دی۔یہ سب مبالغہ کی حد تک آپ کی عظمت شان اور بلند مرتبہ کا بیان ہے۔اسی طرح امام رازی آیت کریمہ: وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ یہاں کا فروں پر غلبہ اور فوقیت سے مراد حجت و برہان کا غلبہ ہے۔پھر فرماتے ہیں اس آیت میں رَافِعُكَ إِلَى سے مراد درجہ اور منقبت کا رفع ہے نہ کہ مکانی یا جہتی اعتبار سے کسی طرف یا کسی جگہ اٹھا لینے کا مفہوم ہے۔اسی طرح اس آیت میں فوقیت بھی مکانی نہیں ہے بلکہ درجہ اور مقام کی فوقیت مراد ہے۔امام الوسی فرماتے ہیں کہ اِنِّي مُتَوَفِّيْكَ كا سب سے مناسب اور درست معنی یہی ہے کہ میں تجھے پوری عمر تک پہنچانے والا ہوں، اور تجھے طبعی موت مارنے والا ہوں ، اور تجھ پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہیں کروں گا جو تجھے قتل کر سکے۔وہ رفع جو وفات کے بعد ہو وہ مقام ومرتبہ کا رفع ہوتا ہے نہ جسم و بدن کا ، خصوصا اس لئے بھی جسمانی رفع کا معنی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسکے آگے آیت کریمہ میں ذکر ہے کہ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا جو سراسر آپ کی عزت و وتو قیر و تکریم پر دلالت کرتا ہے۔امام ابن حزم ( جو کہ ظاہر یہ فرقہ کے فقہاء میں سے ہیں ) کی رائے میں ان آیات میں وفات سے مراد حقیقی موت ہے۔اور ان ظاہری معنوں کو حقیقت سے پھیرنے سے آیت کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔حقیقت یہی ہے کہ عیسی علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے۔شیخ محمد عبدہ نے آیات رفع اور احادیث نزول پر تبصرہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس آیت میں مُتَوَفِّيكَ کے ظاہری معنے ہی مراد ہیں اور توفی سے مراد طبعی موت۔اور جو رفع اسکے بعد ہوتا ہے وہ روحانی ہوتا ہے۔ہے،