مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 247
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 229 رفع کرنے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں سے نتھار کر الگ کرنے والا ہوں جو کافر ہوئے ، اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک بالا دست کرنے والا ہوں۔پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے۔یہ آیت بڑی وضاحت کے ساتھ وہ سب کچھ بیان کر رہی ہے جس کا ذکر ہم کر آئے ہیں یعنی عیسی علیہ السلام کی طبعی وفات، آپ کی کافروں سے تطہیر، اور دشمنوں کے شر سے حفاظت۔نیز یہ آیت آپ علیہ السلام کو اس بات میں آپ کے متبعین کے ساتھ شامل کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ان سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔۔۔۔۔دوسری آیت یہ ہے: مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا اَمَرْتَنِي بِهِ أَن اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبِّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ۔( المائده : 118) ترجمہ: میں نے تو انہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جو تُو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔اور میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان میں رہا۔پس جب تو نے مجھے وفات دے دی، فقط ایک تو ہی ان پر نگران رہا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔اس آیت میں بھی عیسی علیہ السلام کی موت اور اس موت کی وجہ سے ان کی اپنے متبعین کی نگرانی سے سبکدوشی اور بعد ازاں یہ نگرانی اللہ تعالیٰ کو سونپنے کا بیان ہے۔تیسری آیت عیسی علیہ السلام کی زبانی خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا: وَالسَّلَامُ عَلَى يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ أَبْعَثُ حَيًّا ( مريم : 34) - ترجمہ: اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن مجھے جنم دیا گیا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں زندہ کر کے مبعوث کیا جاؤں گا۔یہ آیت واضح طور پر دلالت کر رہی ہے کہ عیسی علیہ السلام دیگر لوگوں کی طرح ہیں جو پیدا ہوتے اور وفات پاتے اور پھر زندہ کر کے مبعوث کئے جاتے ہیں۔جو اس آیت کے اس کے سوا کوئی معنی کرتا ہے وہ اس کے الفاظ کا ایسا مطلب نکالتا ہے جس کے وہ متحمل نہیں ہیں۔گزشتہ زمانوں میں بھی اور اس موجودہ عرصہ میں بھی علماء کی ایک کثیر تعداد نے اس رائے کو اپنایا ہے۔