مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 246 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 246

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم حضرت عیسی علیہ السلام کا روحانی رفع ہو نہ کہ جسمانی 228 اب ہم اس مسئلہ کی کسی قدر تفصیل اور دلائل درج کرتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام دیگر انبیاء اور صلحاء کی طرح فوت ہو گئے اور یہ ثابت کریں گے کہ جس کا رفع ہوا وہ آپ کی روح تھی نہ کہ جسم۔اس سلسلہ میں سے سب سے پہلے میں اس موضوع پر ہونے والے ایک بہت بڑے سیمینار کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کا اہتمام مجلہ "لواء الا سلام نے اپریل 1963ء میں کیا۔اس میں بڑے بڑے علماء کے ایک مجموعہ نے شرکت کی اور بنیادی طور پر مندرجہ ذیل دوا ہم اصولوں پر اتفاق کیا: 1 - قرآن کریم میں کوئی ایک بھی ایسی نص نہیں ہے جو یہ عقیدہ رکھنا لازم قرار دیتی ہو کہ عیسی علیہ السلام جسم سمیت آسمان پر اٹھالئے گئے ہیں۔2 عیسی علیہ السلام کے واپس آنے کا ذکر جن احادیث میں آیا ہے وہ اگر چہ صحیح احادیث ہیں لیکن وہ سب کی سب آحاد ہیں اور آحاد حدیث پر کسی عقیدہ کی بنا نہیں رکھی جاسکتی، جبکہ ظاہر ہے کہ یہ ایک اعتقادی مسئلہ ہے جو اس قسم کی آحاد حدیثوں سے ثابت نہیں ہوسکتا۔مجله لواء الا سلام شمارہ اپریل 1963ء صفحہ 263) حضرت عیسی علیہ السلام کی طبعی موت اور اسی زمین میں دفن ہونے اور دیگر انبیاء وصدیقین اور شہداء کی روحوں کی طرح آپ کی روح کے اپنے خالق حقیقی کی طرف پرواز کر جانے کے بارہ ان میں علماء کے اقوال تو ہم آگے چل کر نقل کریں گے۔بہر حال عیسی علیہ السلام کے جسمانی رفع کی نفی اور روحانی رفع کے قائل علماء بنیادی طور پر مندرجہ ذیل دو آیات پر اپنے موقف کی بنارکھتے ہیں:۔إِذْ قَالَ اللهُ يَعِيْسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقَيْمَة ثُمَّ إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَاحْكُمْ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ (آل عمران : 56) ترجمہ: جب اللہ نے کہا اے عیسی ! یقیناً میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا