مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 237 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 237

مصالح العرب۔۔۔جلد دوم اور کبھی نزول کا مطلب واقع ہونا ہوتا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ: واقع ہوا۔219 فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتَهُمْ فَسَاء صَبَاحُ الْمُنْذِرِينَ (الصفت : 178 )۔یعنی جب عذاب یا کبھی معنی ہوتا ہے عطا کرنا جیسے کہ اس آیت میں : وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمْنِيَةَ أَزْوَاجِ (الزمر: (7)۔“ یعنی تمہیں چوپائے عطا کئے۔" چنانچہ واضح ہو گیا کہ اگر مذکورہ بالا دونوں حدیثوں کو صحیح مان لیا جائے تو ان میں لفظ ينزل “ کا معنی سوائے آنے اور ظہور کرنے کے اور کچھ نہیں۔عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ زندہ کر دے اور قیامت سے قبل شریعت محمدی پر رسول بنا کر دوبارہ بھیج دے۔اگر ایسا ہو جائے تو یہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔لیکن جو ( رفع عیسی کا) استدلال ان احادیث سے انہوں نے کیا ہے وہ اصل کلمات کو ان کے مدلول سے ہٹانے کے مترادف ہے۔کیونکہ رفع کا لفظ حدیث میں آیا ہی نہیں، بلکہ یہ صرف بعض اس دور کے قارئین کی سوچ کا نتیجہ ہے۔اور ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ حدیث میں اپنی پسند کے مطابق کچھ ایسے الفاظ کا اضافہ کردیں جو دراصل اس کا حصہ نہ ہوں اور جس کے اضافہ کی حدیث کے الفاظ اجازت بھی نہ دیتے ہوں۔اسی تعلق میں دو آیات قرآنیہ ایسی بھی ہیں جن کی تفسیر کے بارہ میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیات عیسی علیہ السلام کے آخری زمانہ میں نزول پر دلالت کرتی ہیں۔یہ آیات درج ذیل ہیں: وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (النساء: 160) وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا (الزخرف: 62) وو 66 پہلی آیت کے بارہ میں بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس میں یہ اور مَوْتِہ " کی ضمیر عیسی علیہ السلام کی طرف جاتی ہے اس بنا پر ان کے نزدیک اس آیت کا یہ معنی ہوگا کہ ہر اہل کتاب عیسی علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا یعنی آخری زمانہ میں جب وہ دوبارہ تشریف لائیں گے تو تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔لیکن بعض دیگر مفسرین