مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 238 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 238

220 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم کا یہ قول ان کے رڈ کے لئے کافی ہے کہ یہ “ میں تو ضمیر عیسی علیہ السلام کی طرف راجع ہے لیکن کی ”موته “ میں اہل کتاب کی طرف ہے۔اس لحاظ سے آیت کا معنی ہوگا کہ ہر ایک اہل کتاب پر اس کی موت کے وقت حضرت عیسی علیہ السلام کی حقیقت کھل جائے گی چنانچہ وہ جان لے گا کہ عیسی علیہ السلام رسول ہیں اور آپ کا پیغام حق و صداقت پر مبنی ہے، لہذا وہ ان پر ایمان لے آئے گا لیکن اس وقت اس کو یہ ایمان کوئی فائدہ نہ دے گا۔وو دوسری آیت ” وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ“ کے بارہ میں بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس میں ” إِنَّہ کی ضمیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن کریم کی طرف راجع ہے۔لیکن جیسا کہ دیگر مفسرین کا خیال ہے یہ بھی ممکن ہے کہ اس ضمیر کا مرجع عیسی علیہ السلام ہوں کیونکہ پچھلی آیات میں بات انہی کی بارے میں ہو رہی ہے۔اس بنا پر اس آیت کا معنی یہ ہوگا کہ عیسی علیہ السلام قیام ساعت کی ایک بڑی علامت ہیں۔پھر بھی اس کا یہ مطلب نہیں بنتا کہ عیسی علیہ السلام دوباره نزول فرمائیں گے بلکہ یہ معنی ہے کہ انکا آخری زمانہ میں وجود قرب قیامت کی دلیل ہو گا۔یا یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو بغیر باپ کے پیدا کرنے کی وجہ سے یا انکو مردوں میں سے دوبارہ زندہ کر کے بعث بعد الموت کی صداقت پر دلیل قائم کر دے گا۔وعلى كل حال فنزول عيسى في آخر الزمان على فرض حدوثه ليس معناه رفعه حيًّا بجسمه كما سبق القول، ثم إن الدليل إذا تطرق له الاحتمال سقط به الاستدلال كما يقول علماء الأصول، وفى هذه الأدلة أكثر من الاحتمال بل فيها اليقين عند الأكثرين ( مقارنة الأديان ص 56-62، مكتبة النهضة المصرية القاهرة الطبعة الثامنة 1984م ) تا ہم اگر بفرض محال آخری زمانہ میں نزول عیسی علیہ السلام کو مان بھی لیا جائے تب بھی یہ لازم نہیں آتا کہ انکا جسمانی رفع ہو چکا ہے۔پھر علمائے اصول کا قاعدہ ہے کہ اگر کسی دلیل میں برعکس معنی کا احتمال بھی وارد ہو جائے تو اس سے استدلال کرنا باطل ہو جاتا ہے۔اور یہاں بیان کردہ دلائل میں تو ایک سے زیادہ احتمال ممکن ہے بلکہ اکثر کے نزدیک تو یقینی طور پر اسکا برعکس معنی غالب ہے۔