مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 230 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 230

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 212 اس سلسلہ میں ایک عام مشہور رائے یہ بھی ہے کہ عیسی علیہ السلام نے جب صلیب سے نجات پائی تو آپ کا اپنے جسم اور روح کے ساتھ آسمان کی طرف رفع ہو گیا۔اور اس رائے کی بنیاد عیسی علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے بعد مکمل طور پر روپوش ہو جانے پر ہے۔لیکن عصر حاضر کے مفکرین اور علماء کی طرف سے اس رائے کے رڈ میں بہت گہری اور وسیع تحقیق پیش کی گئی۔انہوں نے اپنی اس تحقیق کی بنیاد پرانی نصوص اور وثائق و شواہد پر رکھی ہے۔اور قریب ہے کہ یہ نئی رائے عیسیٰ علیہ السلام کے جسم اور روح سمیت آسمان پر چلے جانے کے پرانے عقیدہ کو جڑ سے اکھیڑ کر رکھ دے۔بہر حال ہم یہاں پر پہلے پرانے عقیدہ کے دلائل بیان کرتے ہیں پھر ان پر محاکمہ کریں گے اور آخر میں اس نئی رائے کی پختگی اور قوت کو ثابت کریں گے جو کہ ہماری بھی رائے ہے۔بنى الرأى القديم على فهم غير دقيق للآيات والأحاديث التالية: قوله تعالى : وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا - بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ۔۔۔۔وقوله : إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ما ورد فى البخارى ومسلم من أن رسول الله ﷺ قال: والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا مقسطا يكسر الصليب ويقتل الخنزير۔۔مناقشة هذه الأدلة وردّها: ويناقش جمهور المفكرين المسلمين هذه الأدلة فيقولون إن عيسى بعد أن نجا من اليهود عاش زمنًا حتى استوفى أجله، ثم مات ميتة عادية ورفعت روحه إلى السماء مع أرواح النبيين والصديقين والشهداء، وقد ورد النص برفع عيسى، مع أن روحه سترفع بطبيعة الحال لأنه نبي، تكريما لمكانته بعد التحدي الذي واجهه من اليهود، فذكر الله نجاته، ثم مكانته التي استلزمت رفع