مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 226
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 208 یعنی جن نفوس کی عام اور معروف موت کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہوتا انہیں اللہ تعالیٰ نیند کی حالت میں ایک موت دیتا ہے جو حقیقی موت سے مشابہ ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا: (وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْل) یعنی وہ تمہیں رات کو ایک قسم کی موت دیتا ہے۔پھر فرمایا: (حَتَّى إِذَا جَاءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتُهُ رُسُلُنَا (الانعام: 61) یعنی جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو اسے ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) وفات دیتے ہیں۔چنانچہ دونوں حالتوں میں حقیقی معنی موت کا ہی ہے جبکہ عُرف اور ( توفی کا ) استعمال دونوں معنوں کے درمیان فرق کر دیتا ہے( کہ یہاں توفی سے مراد حقیقی موت ہے یا نیند کی حالت ہے کیونکہ استعمال میں قرینہ ہوگا جیسے آیت کریمہ میں یوفا گم بالگنیل میں الگیل کے لفظ میں بتایا گیا ہے کہ یہاں حقیقی موت مراد نہیں بلکہ اسکی ایک حالت مراد ہے جو عموماً رات کے وقت طاری ہوتی ہے ) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسکی مزید وضاحت کرتے ہوئے یہاں فرمایا ہے ( فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّی) یعنی جس کے بارہ میں حقیقی موت کا فیصلہ ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ روک لیتا ہے جبکہ دوسرے کو ایک مقررہ میعاد تک کے لئے بھیج دیتا ہے ( جس پر کہ موت سے مشابہ حالت یعنی نیند طاری ہوتی ہے)۔تو یہ ایک مسلسل اور محکم تر تیب پر مشتمل کلام ہے۔لیکن پھر بھی اسکی یہ محکم ترتیب بعض افہام پر مشتبہ ہو گئی ہے۔اس آیت سے زیادہ صریح اور واضح سورہ مائدہ کی یہ آیت ہے: (فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ) کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسی علیہ السلام نے وہی معروف وفات پائی جو انسان کے زمین پر ہونے والے واقعات کے بارہ میں جاننے میں حائل ہو جاتی ہے۔اس جگہ توفی کو بالخصوص عیسی علیہ السلام کے بارہ میں نیند پر محمول کرنا سراسر بے معنی اور بے حقیقت امر ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے انکا جسمانی رفع کرنا تھا تو اس کے لئے ان کا سونا ضروری نہیں تھا کیونکہ اس صورت میں نیند نے رفع کے لئے ایک وسیلہ بننا تھا اور اصل مقصد کو چھوڑ کر اس وسیلہ کے ذکر کی چنداں ضرورت نہ تھی۔پس یہ کہنا کہ یہاں وفات سے مراد اس دنیا سے جسمانی طور پر اٹھ جانا ہے وفات کے لفظ کے بغیر کسی دلیل کے نئے معنے ایجاد کرنے کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔وكنت عليهم شهيدًا ما دمت فيهم ---- إلخ) أى كنت