مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 217
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم فالمسيح عليه السلام لم يأت لليهود بشريعة جديدة ولكنه جاء هم بما يزحزحهم عن الجمود على ظواهر ألفاظ شريعة موسى عليه السلام ويوقفهم على فقهها والمراد منها ولما كان أصحاب الشريعة الأخيرة قد جمّدوا على ظواهرها ألفاظها --- وكل ذلك مزهقا لروحها ذاهبا بحكمتها كان لا بد لهم من إصلاح عيسوى يبين لهم أسرار الشريعة وروح الدين وأدبه الحقيقى ـ وكل ذلك مطوى فى القرآن الذي حجبوا عنه بالتقليد الذي هو آفة الحق وعدو الدين فى كل زمان فزمان عیسی علی هذا التأويل هو الذى يأخذ الناس فيه بروح الدين والشريعة الإسلامية لإصلاح السرائر من غير تقيد بالرسوم والظواهر 66 199 ( تفسیر المنار جلد 3 صفحہ 316-317 - دار المنار، الطبعة الثالث 1368ھ ) علماء کا دوسرا موقف یہ ہے کہ آیت کا وہی ظاہری مفہوم مراد ہے جو کہ عام فہم اور واضح ہے اور وہ طبعی موت کا معنی ہے۔اور موت کے بعد ہونے والا رفع ہمیشہ روحانی رفع ہوا کرتا ہے۔اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ خطاب شخص کو ہو اور اس سے مراد اس کی روح ہے۔کیونکہ روح ہی انسان کی اصل حقیقت ہے اور انسانی جسم اس روح کے لئے ایک مستعار لئے ہوئے کپڑے کی طرح ہے۔اس موقف کے حامیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور آخری زمانہ میں نزول سے متعلق احادیث کی دو تو جیہات پیش کی ہیں: ایک یہ کہ یہ احادیث آحاد ہیں جبکہ ان کے مضمون کا تعلق اعتقادی امور سے ہے۔او چونکہ اعتقادی امور میں لوگوں سے یقین مطلوب ہوتا ہے اس لئے ان میں صرف اور صرف قط خبر پر ہی بناء کی جاسکتی ہے۔لیکن ان احادیث میں سے کوئی بھی حدیث متواتر نہیں ہے جو یقین کے مرتبہ تک پہنچائے۔قطعی دوسری توجیہ یہ ہے کہ عیسی علیہ السلام کے نزول اور آپ کے زمین میں حکومت کرنے کی تاویل کی جائے۔چنانچہ اس سے مراد آپ کی مسیحانہ روح اور آپ کے پیغام کا غلبہ ہے۔اور یہ بات رحمت، محبت، صلح جوئی اور شریعت کے مقاصد اور اصل ہدف کو سمجھنے اور مغز کو اخذ کرنے اور