مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 218 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 218

200 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم نرے چھلکے پر ہی اکتفانہ کرنے کی صورت میں آپ کی تعلیمات میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔اور کی دراصل اسے دوسرے معنوں میں احکام کی حکمت اور ان کی تشریح کا سبب کہا جاتا ہے۔مسیح علیہ السلام یہودیوں کے پاس کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے۔تاہم خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے پر حکمت دلائل ضرور لے کر آئے تھے جو یہود کو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے ظاہری الفاظ پر بناء کر کے بیٹھے رہنے سے روکتے تھے اور ان کی اصل حقیقت اور مراد سمجھنے پر مجبور کرتے تھے۔۔۔اور جب اس آخری شریعت کے پیروکاروں نے اپنی شریعت کو اس کے ظاہری الفاظ کی حد تک ہی منجمد کر کے رکھ دیا۔تو گویا انہوں نے الفاظ کی روح اور حکمت کو فراموش کر دیا لہذا ان کے لئے اصلاح عیسوی بہت ضروری ہوگئی تا کہ انہیں شریعت کے اسرار اور دین کی روح اور اس کا حقیقی ادب سکھائے ، اور یہ سب کچھ قرآن کریم میں موجود ہے جس کو انہوں نے تقلید کے پردوں میں چھپا ڈالا ہے اور یہ بات ہر زمانے میں حق اور دین کی بڑی دشمن ہے۔اس تاویل کے مطابق عیسی علیہ السلام کا زمانہ وہ زمانہ ہے جس میں لوگ ظاہری اشکال ، افعال، اور الفاظ کی پیروی کی بجائے دین اور شریعت اسلامیہ کی روح پر عمل پیرا ہوں گے۔شیخ محمد رشید رضا کا بیان شیخ محمد رشید رضا صاحب کا شمار مصر کے مشہور علماء میں ہوتا ہے۔آپ شیخ محمد عبدہ کے شاگرد تھے۔اور عربی رسالہ ”المنار کے ایڈیٹر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتاب اعجاز مسیح ، جب ان تک پہنچی تو اس میں موجود چیلنج کو پڑھ کر انہوں نے کہا کہ اہل علم حضرات اس سے کہیں بہتر کتاب سات دن میں لکھ سکتے ہیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عربی زبان میں ایک اور کتاب الهُدى وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ يَّرَى، لکھی جس میں اور امور کے علاوہ مسیح ناصری علیہ السلام کی ہندوستان کی طرف ہجرت اور وہاں وفات اور سرینگر میں ان کے مزار کا بھی ذکر فرمایا۔آپ نے یہ کتاب خصوصی طور پر ان کو بھجوائی اور فرمایا: - اگر مدیر المنار نے اس کا اچھا اور عمدہ رڈ لکھا تو میں اپنی کتابیں جلا دوں گا اور اس کی قدم بوسی کروں گا، اور اس کے دامن سے وابستہ ہو جاؤں گا اور پھر دوسرے لوگوں کی قدر و قیمت اس