مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 214
196 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم (1899ء تا 1905ء ) مصر کے مفتی عام بھی رہے۔آپ کے اہم شاگردوں میں شیخ محمد رشید رضا ہیں جنہوں نے اپنی تفسیر تفسیر المنار میں جگہ جگہ آپ کے فتاویٰ اور آراء درج کی ہیں۔وفات مسیح کے مسئلہ پر شیخ رشید رضا اپنے استاد کی رائے لکھتے ہوئے کہتے ہیں: يقول بعض المفسرين: "إنى متوفيك" أى منومك، وبعضهم إنى قابضك من الأرض بروحك وجسدك - ورافعك إلى بيان لهذا التوفى، وبعضهم: إنى أنجيك من هؤلاء المعتدين، فلا يتمكنون من قتلك، وأميتك حتف أنفك ثم أرفعك إلى ونسب هذا القول إلى الجمهور وقال: للعلماء هاهنا طريقتان إحداهما وهى المشهورة أنه رفع حيًّا بجسمه وروحه، وأنه سينزل في آخر الزمان فيحكم بين الناس بشريعتنا ثم يتوفاه الله تعالى ولهم في حياته الثانية على الأرض كلام طويل معروف وأجاب هؤلاء عما يرد عليهم من مخالفة القرآن في تقديم الرفع على التوفي بأن الواولا تفيد ترتيبا أقول وفاتهم أن مخالفة الترتيب في الذكر للترتيب في الوجود لا يأتى فى الكلام البليغ إلا لنكتة، ولا نكتة هنا لتقديم التوفى على الرفع إذ الرفع هو الأهم لما فيه من البشارة با لنجاة ورفعة المكانة بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اِنِّي مُتَوَفِّيكَ“ کے معنے ہیں میں تجھ پر نیند طاری کر دوں گا، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ اس کا مطلب ہے: میں تجھے زمین سے مع جسم وروح اٹھا لوں گا ، اور وَرَافِعُكَ اِلَی “ اس توفی کی کیفیت کا بیان ہے ( یعنی تجھے بجسم وروح اٹھانا اپنی طرف رفع کرنے سے ہوگا)، اور بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں تجھے ان ظالموں کے چنگل سے چھڑاؤں گا چنانچہ وہ تجھے قتل نہیں کر سکیں گے چنانچہ میں تجھے طبعی موت دوں گا پھر تمہارا اپنی طرف رفع کروں گا۔اور یہ آخری قول جمہور علماء کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔شیخ محمد عبدہ یہ آراء درج کرنے کے بعد کہتے ہیں: علماء نے اس سلسلہ میں دو موقف اختیار کئے ہیں ان میں سے جو زیادہ مشہور ہے وہ یہ ہے