مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 213
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 195 خوب یاد رکھو کہ بجز موت مسیح صلیبی عقیدہ پر موت نہیں آسکتی۔سو اس سے فائدہ کیا کہ برخلاف تعلیم قرآن اس کو زندہ سمجھا جائے۔اس کو مرنے دوتا یہ دین زندہ ہو۔“۔۔پھر فرمایا: کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 17 ) تم عیسی کو مرنے دو کہ اس میں اسلام کی حیات ہے۔ایسا ہی عیسی موسوی کی بجائے عیسی محمدی آنے دو کہ اس میں اسلام کی عظمت ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 694 حاشیہ۔جدید ایڈیشن) ایک اور جگہ فرمایا: مسلمانوں کی خوش قسمتی ہی اس میں ہے کہ مسیح مرجائے۔اب زمانہ ہی ایسا آگیا ہے کہ خیال تبدیل ہوتے ہیں۔کچھ مان جائیں گے کچھ مر جائیں گے۔۔۔۔پس مسیح کو مرنے دو کہ اسلام کی زندگی اسی میں ہے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 547-548 جدید ایڈیشن) گو کہ بعض بزرگان سلف نے اپنی کتب میں تو وفات مسیح کا ذکر کیا تھا لیکن عصر حاضر کے علماء کی طرف سے اس وقت اس عقیدہ کی مخالفت شدت اختیار کر گئی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ اعلان فرمایا کہ مسیح ناصری تو وفات پاچکے ہیں اور جس کے آنے کا وعدہ ہے وہ اسی امت سے ایک فرد ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی وجہ سے یہ مقام عطا کیا جائے گا۔اور مجھے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ موعود میں ہوں۔تو اس اعلان کے بعد بیشتر علماء حیات مسیح ثابت کرنے میں لگ گئے لیکن بالآخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلمات مبارکہ اب زمانہ ہی ایسا آگیا ہے کہ خیال تبدیل ہوتے ہیں“ کی صداقت ظاہر ہوئی اور آج صرف عربوں میں ہی علماء کی ایک جماعت وفات مسیح کی قائل ہو گئی ہے۔ذیل میں صرف ان عصر حاضر کے علماء کے اقوال و دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔شیخ محمد عبدہ کا موقف آپ کا شمار مصر کے ان علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے مصری اسلامی معاشرہ میں بعض غلط مفاہیم کی اصلاح کا کام کیا۔عقل اور منطق کو مدنظر رکھ کر بات کرنے کی وجہ سے آپ کے کلام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔آپ جمال الدین افغانی کے شاگرد تھے اور آخری عمر میں