مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 212
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 194 کی بنا پر اسلام کی حمایت و حفاظت کے دعویداروں نے اسلام کو کسی بھی بیرونی دشمن سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ایسے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرما کر اس مخالف اسلام عقیدہ کا رد فرمایا۔آپ نے فرمایا: وفات مسیح اور حیات اسلام یہ دونوں مقاصد باہم بہت بڑا تعلق رکھتے ہیں اور وفات مسیح کا مسئلہ اس زمانہ میں حیات اسلام کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔زندہ بجسد عنصری حضرت عیسی کی حیات اوائل میں تو صرف ایک غلطی کا رنگ رکھتی تھی مگر آج یہ غلطی ایک اثر دھا بن گئی ہے جو اسلام کو نگلنا چاہتی ہے۔ابتدائی زمانہ میں اس غلطی سے کسی گزند کا اندیشہ نہ تھا اور وہ غلطی ہی کے رنگ میں تھی۔مگر جب سے عیسائیت کا خروج ہوا اور انہوں نے مسیح کی زندگی کو ان کی خدائی کی ایک بڑی زبر دست دلیل قرار دیا تو یہ خطرناک امر ہو گیا۔انہوں نے بار بار اور بڑے زور سے اس امر کو پیش کیا کہ اگر مسیح خدا نہیں تو وہ عرش پر کیسے بیٹھا ہے؟ اور اگر انسان ہو کر کوئی ایسا کر سکتا ہے کہ زندہ آسمان پر چلا جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی بھی آسمان پر نہیں گیا ؟ اس قسم کے دلائل پیش کر کے وہ حضرت عیسی کو خدا بنانا چاہتے ہیں اور انہوں نے بنایا اور دنیا کے ایک حصہ کو گمراہ کر دیا۔اور بہت سے مسلمان جو میں لاکھ سے زیادہ بتائے جاتے ہیں اس غلطی کو صحیح عقیدہ تسلیم کرنے کی وجہ سے اس فتنہ کا شکار ہو گئے۔۔۔۔عیسائیوں نے مسیح کی اس خصوصیت کو پیش کر کے دنیا کو گمراہ کر دیا ہے اور مسلمانوں نے بغیر سوچے سمجھے ان کی اس ہاں میں ہاں ملادی اور ضرر کی پروانہ کی جو اس سے اسلام کو پہنچا۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے اور وہ اپنی غلطی کو سمجھیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ جو لوگ مسلمان کہلا کر اس عقیدہ کی کمزوری اور شناعت کے کھل جانے پر بھی اس کو نہیں چھوڑتے وہ دشمن اسلام اور اس کے لئے مار آستین ہیں۔“ بجز موت مسیح صلیبی عقیدہ پر موت نہیں آسکتی نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 337)