مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 204
186 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم ان سے منسوب کر کے بعض باتیں شائع کر دیں جبکہ حقیقت میں انہوں نے وہ باتیں نہیں ہیں۔انہوں نے خاص طور پر اس کی مثال درج کرتے ہوئے لکھا کہ : " و ينسب إلى المحرر المذكور في جريدة ”جنك" ويُدعى جاويد جمال كلاما طالما قلت عكسه وهو وجود أحمديين في جيش أو شرطة إسرائيل - فيقول جاويد أننى قلت له "إن في جيش إسرائيل لا يوجد أحمديون ولكن هنالك مئات الأحمديين في الشرطة الإسرائيلية وفى الجيش التطوعي والحقيقة أنه لا 66 يوجد أى أحمدى حتى الآن في جيش إسرائيل ولا في الشرطة الإسرائيلية ولا في الجيش التطوعي ،، الأحمدية - - عقائد وأحداث صفحہ 135) ترجمہ: اخبار ”جنگ“ کے محرر جاوید جمال نے میری طرف ایسا کلام منسوب کیا ہے جس کی بارہا میں نے نفی کی ہے اور وہ ہے اسرائیلی فوج یا پولیس میں احمدیوں کا موجود ہونا۔جاوید صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج میں تو کوئی احمدی نہیں ہے لیکن اسرائیلی پولیس میں اور رضا کاروں میں ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک اسرائیلی فوج اور اسرائیلی پولیس اور رضا کاروں میں ایک بھی احمدی نہیں ہے۔ان کے اس اعتراف سے ایک بات تو واضح ہوگئی کہ اسرائیلی فوج میں احمدیوں کی موجودگی محض جھوٹ اور افتراء ہے۔کیونکہ اگر یہ بات درست ہوتی تو ارتداد کے بعد عودہ صاحب نے صرف اسی مسئلہ پر ہی دنیا کو سر پر اٹھا لینا تھا۔اب اس حقیقت کے آئینے میں دیکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین اور معترضین کہاں کھڑے ہیں۔یہی وہ معترضین ہیں جنہوں نے مذکورہ بالا جھوٹا اعتراض دہراد ہرا کر کتابوں کے صفحے کالے کئے ہوئے ہیں۔جماعت احمدیہ نے بارہا اس کے بارہ میں وضاحت کی کہ یہ بات محض جھوٹ اور بہتان ہے لیکن شاید انہیں جس طرح احمدیوں کے قتل میں جنت نظر آتی ہے اسی طرح اس جھوٹ میں