مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 202
مصالح العرب۔جلد دوم يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ کا وعدہ اور حکمت 184 جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی جماعت قائم فرماتا ہے تو یہ نہیں چاہتا کہ اس میں ہر خبیث وطیب اور صالح وطالح داخل ہو جائے بلکہ چاہتا ہے کہ اس میں داخل ہونے والے پہلے چاہے جیسے بھی ہوں لیکن جب اس جماعت میں شامل ہونے کا عہد کریں تو تمام گناہوں سے حقیقی طور پر تائب ہو چکے ہوں،انکے دلوں میں ایمان راسخ ہو چکا ہو اور شکوک وشبہات ختم ہو کر یقین کے درجہ پر پہنچ گئے ہوں۔چنانچہ ارتداد اختیار کرنے والا جب اپنی طرف سے شکوک وشبہات کا اظہار کرتا ہے اور الہی جماعتوں کے اعتقادات پر انگلی اٹھاتا ہے تو ایسی صورتحال میں دینی لحاظ سے کمزور آدمی کبھی بھی الہی جماعت میں داخل ہونے کی جرات نہیں کرسکتا بلکہ اسکے بعد جماعت میں وہی داخل ہوگا جو مکمل تحقیق کے بعد اس جماعت کی صداقت کے بارہ میں یقین کے درجہ تک پہنچ جائیگا اور مخالفت برداشت کرنے کے قابل ہوگا اور ایمان کے رستے میں ظلم اور دکھ سہنے کے لئے تیار ہو گا۔چنانچہ صرف ایسے ہی لوگ جماعت میں داخل ہوتے ہیں جو اللہ والے ہوں اور خدا تعالیٰ کی خاطر حق قبول کر کے اس راہ میں ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہوں اور پھر اس بنا پر وہ خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار سے حصہ پاتے ہیں، اس طرح مرتد کے بدلے ایک عطا ہونے والی قوم کے حق میں يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ کا وعدہ پورا ہوتا ہے۔خدائے ذوالقوۃ التین کی سزا کا ایک طریق خدا تعالیٰ کا ازل سے یہ قانون اور وعدہ ہے کہ اس کے رسول ہی غالب آتے ہیں اور ان کے مخالفین کو اللہ تعالیٰ عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔اس موضوع کے بارہ میں خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 16 را کتوبر 2009ء میں فرمایا کہ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دشمنوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے بعض کو موت دے کر عبرت کا نشان بنایا، بعض کو ڈھیل دے کر ، اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کامیابیاں دکھا کر انہیں اپنی آگ میں جلنے پر مجبور کیا۔یہ بھی ان کے لئے ایک پکڑ تھی۔یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے کہ کس کو کس طرح پکڑنا ہے۔“