مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 198
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم نجات پا کر اس علاقے سے ہجرت کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔180 کیا آپ نے اب اس عقیدہ سے بھی تو بہ کر لی ہے اور اب آپ کا تہہ دل سے یہ ایمان ہے کہ عیسی علیہ السلام آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور وہاں پر فوت شدہ انبیاء کے درمیان اپنے جسم عصری کے ساتھ دو ہزار سال سے نزول کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں؟!!۔۔۔۔۔جماعت احمدیہ کا ایمان ہے کہ دجال سے مراد عیسائی اقوام ہیں جن کی دنیا کی آنکھ بڑی تیز ہے لیکن دین کی آنکھ بے نور اور مسیح موعود کی بعثت کا ایک بڑا مقصد آخری ایام میں ان اقوام کے فتنہ کا قلع قمع کرنا ہے۔کیا یہ عقیدہ بھی آپ نے ترک کر دیا ہے اور اب آپ کا ماننا ہے کہ خر دجال اسی طرح ظاہری شکل میں ظاہر ہوگا جیسے دیگر علماء مانتے ہیں؟ یا اب آپ اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ دجال کی پیشگوئی تعبیر طلب نہیں اور عیسائی قوم پر صادق نہیں آتی بلکہ واقعہ عیسی علیہ السلام کے جسمانی نزول سے پہلے ایک کا نا دیو ظاہر ہوگا ؟ !! اگر تو ان سارے سوالوں کا جواب آپ کے نزدیک ہاں میں ہے تو ایسا اسلام آپ کو ہی مبارک ہو جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نسبت نہیں ہے، جس کا قرآن سے کوئی واسطہ نہیں، جو اس صورت میں محض شکوک و شبہات، قصے کہانیوں، اور غلط اور متضاد احکام و تعلیمات کا مجموعہ ہے، جس کی طرف منسوب ہونا کوئی اعزاز کی بات نہیں۔لیکن اگر آپ کا جواب نہ میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عقیدے آپ کے وہی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے روشنی پا کر آپ نے حاصل کئے ہیں اور محض سستی شہرت کے لئے دیگر علماء اسلام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔بلکہ ان عقائد کے ساتھ آپ دیگر علماء سے منافقت کر رہے ہیں۔آپ صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار میں ان کے شریک ہیں۔لیکن آپ کا ابھی تک انہی عقائد پر قائم رہنا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے روشنی پا کر آپ نے حاصل کئے ہیں ثابت کر رہا ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار میں بھی جھوٹے ہیں اور محض سستی شہرت کی خاطر اس آیت کا مصداق بنے ہوئے ہیں: وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ (الواقعة : 83)۔اس صورتحال میں یہ مرتدین ہمیں کس چیز کی طرف بلا رہے ہیں؟ وہ ہمیں دینا کیا چاہتے