مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 194
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 176 انہوں نے جیت لیا ہے۔حیرت انگیز بات ہے، جماعت جو کچرا باہر پھینکتی ہے اس کو یہ سینے سے لگا لیتے ہیں اور پھر اعلان کرتے ہیں کہ ہماری فتح ہوئی ہمارا غلبہ ہوا۔۔۔یہ سزا پانے کے بعد جماعت سے علیحدہ ہوئے ہیں، ہمارے رڈ کرنے کے بعد گئے ہیں، اس لئے اس ارتداد کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہوا کرتی۔جس کو آپ نکال کر باہر پھینک دیں اس کا ارتداد کیا اور عدم ارتداد کیا۔جس کو ہم نے قبول ہی نہیں کیا، جس کی بیعت فسخ کر دی، اس کا بعد میں کہنا کہ میں مرتد ہوں یہ بالکل بے معنی اور بے حقیقت ہے۔“ ( خطبه جمعه فرموده 8 دسمبر 1989 ء ہفت روزہ بدر قادیان 18 / جنوری 1990ء ) اس حقیقت کے پیش نظر قارئین کرام بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عودہ صاحب کے اس قول میں کس قدر سچائی ہے کہ انہوں نے بڑی تحقیق کے بعد احمدیت ترک کی ہے۔انکے والدین ان کے ارتداد کے باوجود بڑے اخلاص کے ساتھ احمدیت کے ساتھ چمٹے رہے۔والدہ کی وفات کے بعد ان کے والد صاحب آج تک بفضلہ تعالیٰ مخلص احمدی ہیں۔قبول اسلام کی دعوت ! عودہ صاحب نے ارتداد کے بعد مختلف عرب احمدیوں کو خطوط لکھے جن میں ان کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام ترک کر کے نہ جانے کون سا اسلام قبول کرنے کی طرف بلایا۔مخالفین جماعت کا یہ ایک پرانا طریق ہے جس کا مقصد سادہ لوح مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ تصور قائم کرنا ہے کہ احمدی (نعوذ باللہ ) غیر مسلم ہیں اس لئے ان کو اسلام کی طرف بلایا جارہا ہے۔لیکن احمدی ہمیشہ ان کی اس حرکت پر حیران ہو جاتے ہیں کہ ہم تو کلمہ گو ہیں، تمام ارکان اسلام پر ایمان رکھتے ہیں، شریعت کی جزئیات پر ایمان اور عمل کے قائل ہیں ، اور دنیا کے کناروں تک تبلیغ اسلام کی مہمات میں شریک ہیں، پھر ہمیں یہ کس اسلام کی طرف بلاتے ہیں؟ ان میں سے ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر اور دیگر فرقوں کو باطل پر خیال کرتا ہے بلکہ ایک فرقہ کے دوسرے فرقہ کے خلاف کفر کے فتوے موجود ہیں۔ایک فرقہ کا اسلام دوسرے کے نزدیک کفر ہے۔پھر یہ کونسا اسلام ہے جس کی طرف یہ ہمیں بلا رہے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ جس لباس کو زیب تن کرنے کی یہ ہمیں دعوت دے رہے ہیں اس کو