مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 191
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم جماعت کی نمائندگی سے رکوا دیا۔“ مالی اور انتظامی بے قاعدگیاں اور تنبیہات 173 " پھر 1986ء میں ہی ان کی بعض اور بد عادات ظاہر ہوئیں جن میں سے کچھ تو مالی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں اور تبشیر کو 19 اپریل 1986 ء ) اور ( 21 اکتوبر 1986ء) کو تحریرا ان کو نوٹس دینے پڑے اور مجھے بھی ان کو سمجھانا پڑا کہ آپ نے اس طرح بغیر اجازت کے کوئی خرچ کیا تو میں منظور نہیں کروں گا۔اب تک میں برداشت کرتا چلا آ رہا ہوں لیکن آئندہ سے یہ نخرے برداشت نہیں ہوں گے۔اس لئے پہلے تحریری اجازت لیں اپنے افسران سے، پھر خرچ کریں۔پھر اپنے مستقر سے یعنی جس جگہ پر مقرر تھے وہاں سے بغیر اجازت کے غائب ہونا شروع ہو گئے۔چنانچہ (30 دسمبر 1986ء) تحریرا انہیں اس بات کی بھی تنبیہ کرنی پڑی۔یہ کی پہلے چھ مہینے کے شگوفے ہیں جو انہوں نے یہاں چھوڑے۔اور جن کے اوپر جماعت نوٹس تو لیتی رہی لیکن ان سے مغفرت کا سلوک رہا۔جس کی وجہ میں نے بیان کی ہے۔میں چاہتا تھا کہ اس کی نوجوان کی اصلاح ہو جائے اور جس حد تک محفوظ طور پر اس سے کام لیا جا سکتا ہے اس سے کام لیا جائے۔86ء میں ہی ان کو ایک نہیں بلکہ بار بار یہ تنبیہات بھی کرنی پڑیں کہ آپ اپنے افسران کی نہ صرف حکم عدولی کرتے ہیں بلکہ واضح بد تمیزی سے کام لیتے ہیں اور یہ بات ناقابل برداشت ہے۔اس لئے آپ کو اس سے تو بہ کرنی چاہئے۔عدم تعاون اور افسران سے نافرمانی کے رویہ کے متعلق وکیل التبشیر نے پھر ان کو (27 رمئی 1987ء) کو سختی سے نوٹس دیا کہ آپ اس سے باز نہیں آرہے۔اپنے رویہ کو ٹھیک کریں ورنہ ہمیں آپ کو فارغ کرنا پڑے گا۔( 18 جولائی 1987 ء کو پھر مجھے تنبیہ کرنی پڑی۔پھر ( 31 مئی 1988ء) کو ان کی بار بار کی کجیوں کی وجہ سے بالآخر جب میں نے سمجھایا اور بہت اچھی طرح قرآن وحدیث اور سنت کے حوالے دے کر سمجھایا کہ آپ اپنی اصلاح کرلیں میں بار بار آپ سے عضو کا سلوک محض اس لئے کر رہا ہوں کہ آپ کی اصلاح ہو جائے لیکن آپ باز نہیں آرہے۔اس پر بھی ان کا معافی کا خط ملا جو ہمارے ریکارڈ میں موجود ہے۔“ 66