مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 170
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 154 علاوہ ازیں کچھ عرصہ ایک مسجد میں جا کر ہفتہ میں تین دن ایک شیخ الحدیث سے حدیث بھی پڑھتا رہا۔لیکن انکے درس بصیرت سے خالی اور نور علم سے عاری ہوتے تھے۔انکا سارا زور حدیث کی سند یعنی اسکے راویوں کے بارہ میں علم جرح و تعدیل پر ہوتا تھا۔مہدی سوڈانی کے بارہ میں معلومات مصر سے لندن واپسی کے ارشاد کے ساتھ ہی حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ نے خاکسار کو سوڈان جانے اور وہاں سے مہدی سوڈانی کے بارہ میں معلومات اکٹھی کر کے لانے کا بھی ارشاد فرمایا۔اس وقت سوڈان میں ایک دو افریقن طالبعلموں کے علاوہ کوئی احمدی نہ تھا۔ایک فیملی تھی جو احمدی تو نہ تھی لیکن احمدیت کے ساتھ اچھا حسن ظن رکھتی تھی۔یہ شدید گرمی کے دن تھے۔میرے ذہن میں سوڈان اور خصوصا خرطوم کے بارہ میں ایک اچھا تصور تھا شاید اس لئے بھی کہ ان دنوں خرطوم یو نیورسٹی بڑی مشہور تھی اور اس کے ذکر کے ساتھ اس علاقے کی ایک اچھی صورت ذہن میں ابھرتی تھی۔بہر حال جب میں ائر پورٹ پر اترا تو اسکی حالت دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا۔خرطوم شہر کی حالت ایک قصبہ سے بھی کم تر تھی ، الغرض سب کچھ میرے تصور کے بالکل برعکس تھی۔بہر حال میں ڈھونڈتا ڈھانڈ تا اس مذکورہ فیملی کے گھر تک پہنچ گیا لیکن گھ میں کوئی مرد نہ تھا اسلئے میں وہاں محض چند منٹ رکنے کے بعد چلا آیا۔مجھے مرکز سے یہ معلومات بھی ارسال کی گئی تھیں کہ خرطوم یو نیورسٹی میں یوگنڈا کے ایک احمدی نوجوان مکرم عز الدین صاحب تعلیم حاصل کرتے ہیں بوقت ضرورت ان سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔لہذا میں شدید گرمی کے عالم میں بمشکل اس ہوسٹل میں پہنچا جہاں کافی دیر مجھے گیٹ پر انتظار کرانے کے بعد عز الدین صاحب سے ملوا دیا گیا جو بہت محبت سے پیش آئے۔ہوٹل میں تو رہنا ممکن نہ تھا لہذا میں ہوٹل میں واپس آ گیا۔خرطوم کے نواح میں ام درمان نامی بستی میں مہدی سوڈانی کی قبر ہے۔اس کے ساتھ ہی ایک لائبریری تھی۔میں روزانہ وہاں جا کر مختلف کتب سے استفادہ کرتا اور دو تین روز میں مطلوبہ معلومات اکٹھی کر کے وہاں سے مصر اور پھر لندن واپس آ گیا۔