مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 166 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 166

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 150 را نا تصور احمد خان صاحب جامعہ احمدیہ میں عربی زبان کے استاد ہیں ان کو اگر مصر بھجوایا ای جائے تو وہ وہاں مکرم حلمی شافعی صاحب کے ساتھ مل کر اگلی جلد کا ترجمہ مکمل کر لیں گے۔چنانچہ حضور انور کے ارشاد کے مطابق مکرم تصور صاحب کو مصر بھجوایا گیا لیکن ان کے ویزے میں توسیع نہ ہو سکی لہذا چندہ ماہ کے بعد ہی انہیں پاکستان واپس جانا پڑا۔اس کے بعد حضورانور نے مجھے ارشاد فرمایا کہ آپ اللہ کا نام لے کر شروع کریں اور مجھے ہرسال ایک جلد کا ترجمہ چاہئے۔اللہ تعالی مدد فرمائے گا۔جب پہلی جلد کا عربی ترجمہ تیار کر 1992ء میں چھپا تو میں ایک کاپی حضور انور کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا۔حضور انور نے اس پر یہ الفاظ تحریر فرمائے: عزیزم عبد المؤمن طاہر سلمہ اللہ کے لئے جنہوں نے اس جلد کے ترجمہ اور تیاری میں بڑی محنت اور لگن اور بڑی قابلیت کے ساتھ کام کیا۔اللہ کرے اب اگلی جلد اس طرح دس سال نہ لے۔چونکہ پہلی جلد کا ترجمہ 1982ء میں شروع ہوا تھا اور دس سال بعد 1992ء میں چھپا اس لئے حضور نے فرمایا کہ اب اگلی جلد بھی دس سال نہ لے۔دوسری جلد نے دس سال تو نہ لئے لیکن ایک سال میں بھی مکمل نہ ہو سکی بلکہ 1995ء میں شائع ہوئی، اور تیسری جلد 1997ء میں چھپی جبکہ چوتھی جلد کافی تاخیر سے یعنی 2004 ء میں شائع ہوئی۔اس کے بعد سے اب تک ہر سال ایک جلد کا ترجمہ ہو کر چھپ رہا ہے۔الحمد للہ۔عربی میں براہ راست ترجمہ کی ابتداء حضور جرمنی جاتے ہوئے ہالینڈ میں قیام فرمایا کرتے تھے۔ایک سفر میں میں بھی ساتھ تھا۔اکثریوں ہوتا تھا کہ حضور انور انگریزی میں بولتے تھے اور عربوں کیلئے جماعت کے مبلغ مکرم عبدالحکیم اکمل صاحب ڈچ میں ترجمہ کرتے تھے۔گویا بعض عرب انگریزی سمجھ جاتے تھے اور بعض ڈچ سن کر حضور کی بات سمجھتے تھے۔پہلے دن کی گفتگو کے بعد میں نے حضور کے سیکیورٹی آفیسر مکرم میجر محمود احمد صاحب سے سیر کے دوران یونہی کہہ دیا کہ اگر حضور انور ذرا آسان انگریزی بولیں تو شاید میں ڈائریکٹ عربی میں ہی ترجمہ کرسکوں گا۔میجر صاحب نے حضور