مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 157
141 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم عموماً ٹیکسی ڈرائیور باتوں باتوں میں فری ہو جاتے تھے اور بعد میں زیادہ کرائے کا مطالبہ کرتے تھے۔بہر حال میں نے اس کے سوال کے جواب میں کہا کہ میں تو یہاں پر فُصحی عربی سیکھنے آیا ہوں لیکن اکثر لوگ یہاں پر عامیہ ہی بولتے ہیں۔اس نے کہا میں آپ کے ساتھ فضحی ہی بولوں گا آپ بات کریں۔چنانچہ راستے میں وہ بہت اچھی فصحی بولتا رہا۔میں نے اسے کہا کہ آپ ٹیکسی ڈارئیور نہیں ہو سکتے۔اس نے انکار کیا لیکن جب میں ٹیکسی سے اترنے لگا تو اس نے کہا کہ تمہاری بات درست ہے۔میں ٹیکسی ڈرائیور نہیں ہوں بلکہ میں وکیل ہوں لیکن وکالت سے میرا گھر نہیں چل سکتا اس لئے فارغ وقت میں ٹیکسی چلاتا ہوں۔مصر کی دینی اور اخلاقی حالت کے بارہ میں میرا تاثر مصر میں عورتوں کی لباس وغیرہ کے معاملہ میں یورپ کی تقلید، عربی فصحی کا بالکل نہ بولنا، قرآن کریم کی کیسٹس لگا کے باتیں کرتے رہنا یا ایسی تلاوت لگانا جس میں ہر آیت کے بعد سب سننے والے واہ واہ کہتے ہیں، وغیرہ ایسے امور تھے کہ جن کی بنا پر مصریوں کی دینی حالت کے بارہ میں میرے ذہن میں ایک منفی تاثر پیدا ہو گیا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ مکرم عمر و عبد الغفار صاحب مجھے ایک دکان پر لے کر گئے جو مولوی تو نہیں تھے لیکن ازہر کے پڑھے ہوئے تھے اور ان کا لباس بھی از ہری علماء کے لباس کے مشابہ تھا۔عمرو صاحب نے ان سے میرا تعارف کروایا تو وہ مجھے کہنے لگے تم یہاں دین سیکھنے آئے ہو؟ میں نے جواب دیا: اگر یہاں مجھے مل گیا تو۔اس پر اس شخص کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔مجھے عمر و صاحب نے کہا کہ یہ تم نے کیا کہہ دیا؟ مصری تو یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس از ہر ہے اور مصر اسلام کا قلعہ ہے، اور وہ شخص گو مولوی نہ تھا لیکن از ہر کا تعلیم یافتہ تھا اس لئے قریب تھا کہ تمہارے ساتھ الجھ جاتا۔ایک سعید روح مصر میں میری درسگاہ میں نائیجر کا ایک لڑکا سکالرشپ پر پڑھنے کے لئے آیا ہوا تھا۔نہایت سلجھا ہوا، باحیاء، محنتی اور صالح نواجون تھا۔اس کو بھی عربی سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔اس کا نام ابوبکر تھا۔ہماری دوستی ہو گئی اور اکثر درسگاہ، لائبریری وغیرہ اکٹھے ہی جاتے