مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 155
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کیا تم ہمارا دین تبدیل کرنے آئے ہو؟!! 139 قتل مرتد والے خطاب کا ترجمہ کرنے کے بعد مجھے اس کی دلیلیں زبانی یاد ہو گئی تھیں۔چنانچہ میں نے انسٹیٹیوٹ کے اس کلرک سے اس موضوع پر بات کی جس نے ویزا کی توسیع میں میری مدد کی تھی۔حالانکہ وہ اچھا خاصا پڑھا لکھا آدمی تھا لیکن اس نے کہا کہ مجھے تو اس بابت کچھ زیادہ علم نہیں ہے تاہم میں آپ کو اس انسٹیٹیوٹ میں پڑھانے والے فلاں مولوی کے پاس لے جاتا ہوں۔جب ہم اس کے پاس گئے تو اس نے بھی ایک دو باتوں کے متعلق بات کر کے کہا کہ مجھے بھی اس معاملہ میں کچھ خاص علم نہیں ہے آؤ ہم سب حدیث کے شعبہ کے ہیڈ بڑے مولوی کے پاس چلتے ہیں۔چنانچہ ہم ایک اور بڑے مولوی کے پاس گئے اور جب انہوں نے میرا اس کے ساتھ تعارف کروایا تو اس نے بڑی حقارت سے مجھے کہا ہاں بولو کیا ہو؟ میں نے جب بات شروع کی تو اس نے کہا کہ قتل مرتد کے بارہ میں بڑی واضح حدیث ہے کہ مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ ( کہ جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔میں نے کہا پھر اس حدیث کے مطابق تو جو عیسائیت سے مسلمان ہوتا ہے اس کے بارہ میں عیسائیوں کو بھی حق ہے کہ وہ اسے قتل کر دیں۔کیونکہ حدیث میں یہ تو کوئی تخصیص نہیں ہے کہ جو صرف اسلام سے مرتد ہو کر کسی اور دین میں جائے اسے قتل کر دو بلکہ یہ ذکر ہے کہ جو بھی اپنادین بدلے اسے قتل کر دو۔اسی طرح اس کی کافی دلیلیں جب میں نے ایک ایک کر کے توڑ دیں تو وہ چھلا کر کہنے لگے : اَجِفْتَ لِتُبَدِّلَ دِينَنَا ؟ یعنی کیا تم ہمارا دین تبدیل کرنے آئے ہو۔پھر کہا کہ تم ہو کون؟ ایک ہندوستانی ہی تو ہو۔گویا اس کے نزدیک کسی ہندوستانی کو دین کے معاملہ میں بولنے کا کوئی حق نہیں۔بہر حال کلرک نے محسوس کیا کہ ہم نے غلطی کی ہے۔لہذا اس نے فورا مجھے وہاں سے نکل جانے کا اشارہ کیا۔چونکہ میں ان کے انسٹیٹیوٹ میں طالبعلم تھا اس لئے اگر وہ چاہتے تو مجھے انسٹیٹیوٹ سے نکال سکتے تھے۔لیکن الحمد للہ کہ خیر بیت ہی رہی۔شُفْتَ الْعِلْمَ؟ ! اسی انسٹیٹیوٹ کا واقعہ ہے کہ ہم ایک دفعہ اس کی لائبریری میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک